اقصیٰ کا قتل تعلیم اور نظام تعلیم کےتناظر میں: محمد پرویز نےاپنی بیٹی کا قتل دو بار کیا

  • email Email to a friend
  • print Print version
  • Add to your del.icio.us del.icio.us
  • Digg this story Digg this

Did you enjoy this article?

(total 0 votes)

Adjust font size: Decrease font Enlarge font
image

ٹورانٹو کےعلاقہ مسسی ساگا میں آباد پاکستانی کینیڈین محمد پرویز نے اپنی بیٹی اقصیٰ کا پہلا قتل اس وقت کیا جب اس کا داخلہ پبلک اسکول میں کرایا تھا اور دوسرا قتل اس تعلیمی نظام کےقدرتی نتائج مختلف طریقہ ہاے زندگی کی شکل میں سامنےآنے، اس کےگھر کے”فرسودہ مذہبی“ ماحول کو ہمیشہ کیلئےخیر باد کہہ کر کہیں اور جانےکےفیصلےاور محمد پرویز کےغصہ پر قابو نہ پانےکےنتیجےمیں ظاہر ہوا۔ قتل کا یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف اس گھرانےکےلئےبلکہ تمام پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کےلئےندامت اور بدنامی کا باعث بنا۔ پہلی بار کےقتل میں والدین کی اکثریت شامل ہےبلکہ مجبور اور لاعلم ہےاور کسی کو اس قتل کا احساس بھی نہیں ہی۔ جبکہ دوسرےقتل کو ساری دنیا جانتی ہی۔
اس اندوہناک خبر سےاسلام دشمن عناصر کو ایک تازہ کمک ملی ہےجو اسلام کو دہشت گردی اور دنیا کا متشدد ترین اور بدترین مذہب ثابت کرنےمیں کوئی کثر نہیں چھوڑتی۔
سولہ سالہ بیٹی کےقاتل والد نےشمالی امریکہ کےمیڈیا کو ایک ایسا موضوع دےدیا ہےجس نےجارحانہ انداز اختیار کرتےہوئےفرانس کی طرز پر حجاب پر پابندی عائد کرنےکی تجویز دی ہی۔یہ وہی میڈیا ہےجو اپنےملٹی کلچر ازم پر فخر کرتا ہےلیکن اس ملٹی کلچر ازم میں اسلامی کلچر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس میڈیا میں کھل کر کہا جا رہا ہےکہ ہمارےرنگارنگ کلچرل میں با حجاب لڑکیوں کےلئےکوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارےاسکول، ہمارےکھیل کےمیدان اور زندگی کےہر میدان میں حجاب کےساتھ داخلہ ممنوع ہے۔
محمد پرویز نےامریکہ اور کینیڈا کےمسلم معاشرہ کےان منافقین کو بھی موقع فراہم کر دیا ہےجن کا کاروبار ہی شعائرِ اسلام کا مذاق اڑانا اور ماڈریت، لبرل اور سیکولر قسم کےاسلام کی بات کر کےسامراجی اور کاروباری قوتوں کی خدمت کرنا ہے۔ ایک منافق مسلمان کی جانب سے اسلام کی مصدقہ اور مروجہ اقدار کےخلاف شر انگیزی سرکار دربار اور میڈیا میں حوصلہ افزائی ہوتی ہی۔ یونیورسٹی، تحقیقی اداروں اور تھنک ٹینک میں اعلیٰ ملازمتیں پکی ہو جاتی ہیں۔ زخم خوردہ مسلم کمیونٹی کےزخم پرنمک چھڑکنا ،ان کےعقائد کی توہین اور مسلم ممالک اور ان کےوسائل پر قابض سامراجی طاقتوں کےقبضہ کا اخلاقی جواز فراہم کرنا ان منافقین کےاہم اہداف ہیں۔ امریکہ کی ہوم لینڈ سیکورٹی اور پبلک ڈپلومیسی کا بجٹ ٢٤ بلین ڈالر ہی۔ دنیا کا کوئی بھی شخص اسلام اور مسلمانوں کےخلاف کھلی جنگ کیلئےوقف اس بجٹ سےاپنی بےضمیری اور استعداد کی بنا پر اپنا حصہ بٹور سکتا ہی۔
تاریخی طور پر دیکھا جائےتو مسلمانوں کےخلاف یہ رویہ نیا نہیں ہی۔ مکہ ایک تکثیری (
Plural)معاشرہ تھا۔ وہاں ہر قسم ، ہر طرح اور ہر شکل کےخداوں کی پوجا ہوتی تھی۔ ہر ایک کو اپنےاپنےخدا کی پوجا کی اجازت تھی۔ مکہ کا معاشرہ دنیا بھر کےہر قسم کےمذاہب کےمعاملہ میں متنوع بھی تھا اور متحمل بھی۔ لیکن اس معاشرےکےتنوع اور رواداری کےغبارےسےاس وقت ہوا نکل گئی جب یہ معاشرہ قریش النسل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےتوحیدی پیغام کو روکنےکیلئےجارحانہ طور پر متحرک ہو گیا۔ اس پیغام پر ایمان لانےوالوں پر دنیا تنگ کر دی گئی۔ جارحانہ تشدد کےساتھ اس پیغام کو روکا گیا اور انہیں ملک چھوڑنےاور ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔ گویا مکہ میں ہر قسم کےشرک کی گنجائش تھی لیکن توحید اور اسلام کےلئےکوئی گنجائش نہیں تھی۔ یہی حال شمالی امریکہ کی ”رنگا رنگ ثقافت“ کا ہی۔ اور یہ صرف شمالی امریکہ تک ہی نہیں ۔ اس وقت پوری دنیا گلوبل ولیج کی شکل میں مکہ کی جاہلی ثقافت کا منظر پیش کر رہی ہے۔ ہر جگہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کےلائےہوئےدین اور شریعت پر عمل کرنےوالوں کےساتھ وہی سلوک ہو رہا ہےجو مکہ میں پیش آ چکا ہے۔
محمد پرویز کا اپنی بچی کو قتل کرنا ایک حرام اور مجرمانہ فعل ہے۔ اسلام کی ابجد سےبھی واقف ہر شخص بخوبی جانتا ہےکہ دین اسلام میں انسانی جان کی کیا حرمت ہے۔ہر وہ فرد جو ظلم و تشدد کی راہ اپناتا ہےاس کا ظلم و تشدد اس کا ذاتی فعل ہے۔ وہ اپنی جہالت یا شعوری و غیر شعوری طور پر اپنےتشدد اور ظلم کو اسلام سےکتنا ہی منسوب کرے‘ اسلام کا ظلم و تشدد سےکوئی واسطہ نہیں۔ بعض ”دانشور“ محمد پرویز کےفعل کو غیرت سےمنسوب کر کےبالواسطہ اسلام کو ہی الزام دےرہےہیں۔ حالانکہ خانگی تشدد دنیا بھر کا ایسا مسئلہ ہےجو ازل سےچلا آرہا ہےاور ابد تک جاری رہےگا۔ خانگی مسائل اور اس حوالےسےتشدد کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہےجتنی خود انسان کی تاریخ ہے۔ کوئی معاشرہ اور کوئی نسل خانگی کشمکش اور اولاد و والدین کےباہمی تعلقات کی کشمکش سےپاک نہیں ۔
جہاں تک سولہ سالہ اقصیٰ کےقتل کا تعلق ہےتو اس کےلئےکسی ایک فرد کو ذمہ دار قرار دینےکی بجائےہم سب کو اپنےاپنےگریبان میں جھانکنا ہو گا۔ سب جانتےہیں کہ اقصیٰ کو جس جرم کی سزا ملی ہےاس نےاس جرم کی جانب قدم خود نہیں بڑھایا تھا۔اس کےماں باپ نےاپنےاختیار سےاس کو ”پبلک اسکول“ کےحوالےکیا۔ حالات و واقعات سےظاہر ہوتا ہےکہ اگر اقصیٰ کےوالدین کےپاس پبلک اسکول کا کوئی آسان متبادل ہوتا تو وہ اقصیٰ کو پبلک اسکول میں بھیجنےکی بجائےایسےاسکول میں بھیجتےجہاں وہ اسلامی اقدار و روایات سےآشنا ہوتی اور حسبِ مقدور ان پر عمل پیرا ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سےہمارےپاس یا تو پبلک اسکول کا متبادل ہی نہیں اور اگر متبادل ہےبھی تو اتنا مہنگا اور اتنا مشکل ہےکہ عام مسلمان کیلئےان سےفائدہ اٹھانا قریباً ناممکن ہے۔
قانوناً یہاں پر تعلیم لازمی ہےاور پبلک اسکولوں کےدو ہی متبادل ہیں۔ پہلا اسلامی اسکول اور دوسرا ہوم اسکولنگ۔ اسلامی اسکول بہت کم اور بہت مہنگےہونےکی وجہ سےوالدین کی اکثریت کی پہنچ سےباہر ہیں۔ دوسرا راستہ ہوم اسکولنگ کا ہی۔ کینیڈا اور امریکہ کی تقریباً تمام ریاستوں اور صوبوں میںہوم اسکولنگ کی اجازت ہی۔ بہت سےوالدین اس نظام کو عدم فرصتگی، کم صلاحیت اور سخت ذمہ داری کا بہانہ بنا کر اس متبادل کو رد کر دیتےہیں۔ اس طرح پبلک اسکول کےعلاوہ عملی طور پر ہمارےسامنےکوئی متبادل نہیں ہی؟ لیکن سوال یہ ہےکہ کیا:
ہمیں متبادل اسکول کی ضرورت ہی؟
اس کا جواب یقینی طور پر ’ہاں‘ میں ہی۔ مسلم کمیونٹی اس حوالے سے واحد کمیونٹی نہیں ہی۔ دیگرکمیونٹیز بہت پہلےسےمتبادل نظامِ تعلیم کو اپنائےہوئےہیں۔ تقریباً تمام یہودی بچےابتدائی تعلیم سےلےکر کالج کی سطح تک تعلیم اپنےمذہبی اسکولوں اور کالجوں میں حاصل کرتےہیں۔ زیادہ تر مذہبی کیتھولک خاندان اپنےبچوں کو کیتھولک اسکول میں پڑھاتےہیں اور کینیڈا کےزیادہ تر صوبےکیتھولک اسکولوں کو سرکاری امداد بھی دیتےہیں۔ لیکن اس کےبرعکس جب دیگر مذہبی اقلیتیں سرکاری امداد کا مسئلہ اٹھاتی ہیں تو میڈیا آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ انٹاریو کےحالیہ انتخابات میں ٹوری پارٹی کو صرف اس وجہ سےشکست کا سامنا کرنا پڑا کہ اس کےراہنما جان ٹوری نےمذہبی اقلیتوں کےاسکولوں کیلئےسرکاری امداد کی حمایت کی تھی۔ جان ٹوری کی اس پالیسی سےمسلم اقلیت کو کو بھی فائدہ پہنچتا لیکن افسوس کہ سیاسی طور پر منتشر مسلم کمیونٹی نےاجتماعی طور پر اس بارےمیں کوئی قدم نہ اٹھایا۔ حتیٰ کہ مسلمانوں کی خاصی تعداد کےحلقےمیں خود جان ٹوری بھی اپنی نشست نہ جیت سکا۔
متبادل تعلیمی نظام کی ضرورت کیوں ہے؟
تعلیم ایک ایسا عمل ہےجس کےذریعہ ایک نسل اپنی اگلی نسل کو اپنےعقائد، مذہب، اپنی تہذیب و روایات، تاریخ، ثقافت، زبان اوراپنےہیروز کےکارناموں اور اپنےتجربات اور مشاہدات اور سماجی علوم منتقل کرتی ہی۔ ہمارےیہاں صدیوں سےروایت رہی ہےکہ جب بچہ چار سال، چار ماہ اور چار دن کا ہو جائےتو”بسم اللہ“ کی تقریب منا کر اس کی تعلیم کا باضابطہ آغاز کیا جاتا تھا۔ اس تعلیم کا آغاز قرآن کریم سےہوتا تھا اور بچہ جب تک قرآن مکمل نہ کر لیتا اسےکوئی دوسری کتاب نہیں پڑھائی جاتی تھی۔ ابتدائی عمر میں قرآن پڑھا دینےسےبچےپر پڑنے والے اثرات تاحیات قائم رہتےہیں۔ یہ روایت سامراجی مغربی طاقتوں کےمسلم سرزمینوں پر قبضےتک اجتماعی طور پر قائم تھی۔ بعد میں بھی مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد اور خصوصاً مذہبی گھرانےاس پر عمل پیرا رہے۔
جبکہ موجودہ نظامِ تعلیم کےحوالےسےیہ بات خاص طورپر قابلِ ذکر ہےکہ پبلک اسکولوں میں جو کچھ پڑھایا اور سکھایا جاتا ہےاس کےبارےمیں والدین کی عظیم اکثریت بالکل بےخبر ہے۔ اس نظامِ تعلیم کی خرابیوں میں سب سےبدتر خرابی یہ ہےکہ اس کی بنیاد لادینیت پر رکھی گئی ہی۔ اس میں مذہب اور اخلاقی اقدار کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس نظامِ تعلیم کو چلانےوالےاساتذہ ایک الگ طرزِ زندگی کےحامل ہیں۔ یہاں کاخاندانی نظام ٹوٹ چکا ہی۔ شادی کےبغیر یا شادی سےپہلےجنسی تعلقات کوئی عیب نہیں بلکہ عام زندگی کا معمول ہیں۔ وہ طلباءو طالبات جن کےگرل فرینڈ یا بوائےفرینڈ نہ ہوں انہیں مشکوک نگاہوں سےدیکھا جاتا ہے۔ ان کےاس طرزِ زندگی کو اخلاقی برتری کی بجائےنفسیاتی اور شخصی کمزوری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اور بات صرف یہی تک محدود نہیں ہے۔ کینیڈا کی اکثریتی آبادی یا تو ہم جنسیت کی طرف ماءل ہے یا ہم جنسی کو پسندیدہ ،قابلِ قبول اور انسان کا ایک ”بنیادی حق“ سمجھتی ہے۔ امریکہ کا بھی یہی حال ہی۔ امریکہ میں آٹھ لاکھ سےزائد اعلانیہ ہم جنس شادی شدہ جوڑےہیں۔جبکہ غیر اعلانیہ ہم جنس جوڑوں کی تعداد کا کوئی حساب ہی نہیں۔ ان اعلانیہ و غیر اعلانیہ ہم جنس پرستوں کی خاصی تعداد اسکولوں میں استاد کی حیثیت سےبچوں کی تعلیم و تربیت کےفرائض بھی انجام دیتی ہی۔ حالت یہ ہو چکی ہےکہ کئی اسکولوں کےاساتذہ نےجنس کو ظاہر کرنےوالےالفاظ مثلاً باپ کو
Dadاور ماں کو Mom کہنےپر پابندی اور اس کےلئےمتبادل اصطلاحات کےاستعمال کا مطالبہ کیا ہی۔
کینیڈا کے٢٠٠٢ءکےمیسر اعداد وشمار کےمطابق ٥١ سال سے٧١ سال کی ٠٠٩،٣٣ اسکول جانےوالی کم سِن بچیاں حاملہ ہوئیں۔ امریکہ میں کم سِن بچیوں کےحاملہ ہونےکی تعداد دنیا میں سب سےزیادہ ہی۔ (اعداد و شمار کےمطابق دنیا کی ہر برائی میں امریکہ سرِ فہرست ہی)۔ ایک تحقیق کےمطابق اگلےبارہ مہینوں میں اسکول جانےوالی دس لاکھ بچیاں حاملہ ہو جائیں گی۔ اب ان اعداد و شمار میں سےایک تہائی حمل ضائع ہوں گی، ایک تہائی حمل اسقاط کےذریعہ سےختم کئےجائیں گی۔ واضح رہےکہ حمل کےیہ واقعات ”محفوظ جنسی عمل“ کےطریقہ کار کی مسلسل تعلیم اور تحریک کےباوجود ٹھہر جاتےہیں۔ ”محفوظ جنسی عمل“ یہاں کےنصابِ تعلیم کا حصہ ہےاور پرنسپل کا آفس اس بات کا پابند ہےکہ وہ آفس کےایک دراز میں کنڈوم کی فراہمی کو یقینی بنائےاور ہر وقت مہیا رکھے۔
مسلم امیگرنٹ والدین کی کثیر تعداد اسکول کےاندر کےماحول، نصاب اور نظام سےقطعی لاعلم ہے۔ جو علم رکھتےبھی ہیں تو ان کےخیال میں گھر کےمذہبی اور صاف ستھرےپاکیزہ ماحول کےباعث ان بیرونی اثرات کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ان کا خیال درست نہیں ہی۔ پبلک اسکول میں جانےوالےبچےپر گھر اور اسکول کےماحول کی تفریق کےاچھےنفسیاتی اثرات نہیں پڑتے۔ دو انتہائی متضاد ماحولوں کےدرمیان مسلسل ایک کشمکش جاری رہتی ہے۔ حقیقت ہےکہ تمام تر کوششوں کےباوجود بمشکل پچاس فیصد بچوں کو ہی پبلک اسکولوں کےنصابِ تعلیم کےاثرات سےمحفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
ان تمام کوششوں کےنتائج ایک دو نسلوں تک تو ساتھ دےسکتےہیں لیکن زیادہ دور تک نہیں۔ یہ نمک کا سمندر ہےجو داخل ہو گا دیر یا سویر نمک بننا اس کا مقدر ہے۔ اس نظام کو بنانےوالوں کو پورا یقین اور اعتماد ہےکہ اس نظام سےنکل کر تمام امیگرنٹس قومی یک رنگی میں رنگ جائیں گےاور ان کا اپنا اصل رنگ ختم ہو جائےگا۔
ہمارےٹورانٹو کےایک دوست مقصود نےٹیچر سےاجازت لےکر ایک دن اسکول میں اپنےگریڈ چھ کےبچےکےساتھ گزارنےکا فیصلہ کیا۔ ایک دن اسکول میں گزارنےاور وہاں کےحالات کا بغور جائزہ لینےپر وہ اس نتیجہ پر پہنچےکہ اگر ان کےبچےکو ایک مسلمان کی حیثیت سےزندگی گزارنا ہےتو اس کا واحد حل یہی ہےکہ اسےاسکول سےنکال لیا جائی۔ انہوں نے بچے کواسکول سےاٹھا کر گھر پر اس کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ ایک سال گھر پر تعلیم دینےکےبعد جب انہوں نےبچےکو سرکاری سطح کے امتحان (اسٹیٹ ٹیسٹ) سےگزارا تو ان کےبچےکےنمبر اسکول کےزمانےسےکہیں زیادہ بہتر تھے۔ اور یہ اس کےباوجود تھےکہ ان کا بچہ اس تعلیم کےساتھ ساتھ قرآن بھی حفظ کر رہا تھا۔
غیر مسلم اور پبلک اسکول
جان ٹیلر گیٹو نیویارک پبلک اسکول سسٹم کےسینئر اور اعلیٰ ایوارڈ یافتہ استاد رہےہیں۔ ان کا تیس سال سےزیادہ عرصےکا تدریس کا تجربہ ہی۔ اس تجربےکےباعث وہ اب موجودہ پبلک تعلیمی نظام کےسب سے بڑے باغی ہیں۔ انہوں نےاس موضوع پر متعدد کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سےایک کتاب Dumbing Us Down: The Hidden Curriculum of Compulsory Education بھی ہی۔ اس کتاب میں پبلک تعلیمی نظام کی خباثتوں کو بہت کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ جان گیٹو اس نتیجہ پر پہنچےہیں کہ اب اگر سوسائٹی کو زندہ رکھنا منظور ہےتو پبلک تعلیمی نظام کو مکمل طور پر تبدیل کئےبغیر کوئی چارہ نہیں۔ اگر اس کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تو اسےبند کر دیا جائے۔ ان کا کہنا ہےکہ اسکول کو بند رکھنےسےسوسائٹی زندہ رہ سکتی ہے لیکن موجودہ نظامِ تعلیم کی موجودگی میں سوسائٹی کا زندہ رہنا ناممکن ہو چکا ہے۔ اس نظام پر تبصرہ کرتےہوئےانہوں نےاس کےاصل مقصد کو ان لفظوں میں بیان کیا ہےکہ ”اپنےدشمن کو قتل کرنےکی بجائےاسےتعلیم دو، زندہ مگر مغلوب دشمن مردہ دشمن کےمقابلےمیں زیادہ کارآمد ہے“۔
یہ وہی بات ہےکہ جب سر سید احمد خان نےبرِ صغیر میں مغربی نظامِ تعلیم کی نقالی میں کالج بنایا تو اکبر الہٰ آبادی نےکہا تھا کہ:
یوں قتل کے بچوں سے بدنام نہ ہوتا
افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی
جان گیٹو نےاپنی کتاب میں لکھا ہےکہ یہ نصابِ تعلیم جس سطح پر جسمانی، اخلاقی اور ذہنی معذوری پیدا کر دیتا ہےاس کےبعد کوئی دوسرا نصاب اس کےاثرات کو بدل نہیں سکتا۔ جان گیٹو کی تحریک پر آج کئی ملین سےزیادہ امریکی خاندان اپنےبچوں کو پبلک اسکولوں سےنکال کرہوم اسکولنگ کرا رہےہیں۔ اس میں تمام مذاہب ہی نہیں بلکہ لادین اور ملحد والدین بھی شامل ہیں۔ گھریلو تعلیم کےدرجنوں نصاب اور والدین کی سینکڑوں تنظیمیں فعال ہو چکی ہیں۔
ماضی اور حال کا فرق
دورِ اول کےمسلم مہاجرین جہاں بھی گئےاپنا نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم ساتھ لےکر گئے۔ انہوں نےاس کےذریعہ نہ صرف اپنےبچوں بلکہ اس معاشرہ اور اس ملک کےدیگر بچوں کو بھی اپنےنظام کےتحت علم دیا اور نتیجتاً پورےمعاشرہ کو تبدیل کر دیا۔ موجودہ انڈونیشیا جہاں مسلمانوں کی سب سےبڑی آبادی ہےوہاں بھی ابتدا میں صرف چند مسلمان ہی گئےتھے۔ لیکن انہوں نےاپنےنصاب کےنور سے پورےمعاشرہ کو جگمگا دیا۔
اب جو لوگ نقل مکانی کر کےمغربی ممالک کی طرف رخ کر رہے ہیں وہ خود مغربی نظامِ تعلیم سےمرعوب ہیں۔ وہی نظامِ تعلیم اور وہی نظامِ حکومت ان کےاپنےملک میں رائج ہے۔ کئی صدیوں کی غلامی نےآزاد ذہن سےسوچنےکی صلاحیت سلب کر لی ہےاور مسلمانوں کی اکثریت نےذہنی طور پر مغربی نظامِ تعلیم اور مغربی نظامِ زندگی کےآگےسرنڈر کر دیا ہے۔ ماضی میں اسلاف کی کوششوں کےباعث اسلام کی بنیادی تعلیمات اور اقدار جو باقی ہیں ان کو اگر نئی نسلوں تک نہ پہنچایا گیا تو سب کچھ ضائع ہو جائےگا۔
حل کیا ہے؟
مسلمان جو اپنی شناخت، اپنی اقدار اور اپنےعقائد کےساتھ زندہ رہنا چاہتےہیں ان کیلئےیہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہی۔ ان کی بقا اس میں ہےکہ وہ اپنی تمام تر ذہنی، دماغی اور مالی صلاحیتوں اور وسائل کو ایک ایسا نظامِ تعلیم رائج کرنےپر لگائیں جوطلباء کو معاشی مشین اور حیوان کے بجائےانسان بنائے۔ ایسےانسان جو جانوروں کی طرح کھانے پینےاور مرجانےکی بجائےاپنےہونےکا جواز اور مقصد حیات کا ادراک رکھتےہوں۔
اس مقصد کو حاصل کرنےکا فوری اور ابتدائی مرحلہ یہی ہےکہ مسجد اور مدرسہ کےباہمی رشتہ کےپرانےطریقہ کو رائج کیا جائے۔ لاکھوں، کروڑوں ڈالرز کی مساجد، ان کےرنگ و روغن اور ان کےمیناروں پر سرمایہ لگانےکی بجائےان مساجد کےاندر تعلیمی نظام، تعلیمی نصاب، اشاعتِ کتب، کلاس روم اور ٹیجر ٹریننگ کےمراکز بنائیں۔ یہ نظامِ تعلیم صرف مسلم بچوں تک ہی محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہر بچہ اپنی فطرت میں مسلم پیدا ہوتا ہےاس لئےہر بچےکو اسلامی تعلیم دینا اور دلانا ہر مسلمان کا فرضِ اولیں ہی۔ یہی ایک کام ہےجو دفاع بھی ہی، اقدام بھی ہی، دعوت و تبلیغ بھی ہی، اصلاح و تربیت بھی ہی۔ اسی ایک کام سےنہ صرف وہ خود اپنی تہذیب کےساتھ زندہ رہ سکیں گےبلکہ دوسروں کیلئےمشعلِ راہ بھی بنیں گے۔
اسکول، مدرسہ، نظامِ تعلیم پر دیگر مضامین کیلئےویب سائٹ دیکھیں:
www.dailymuslims.com
مزید معلومات کیلئےجاوید انور سےای میل کےذریعہ
jawed@dailymuslims.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہی۔



Post your comment comment Comments (0 posted)