ٹورانٹو کےاسکولوں میں قتل، جنسی حملی، ڈاکےاور گینگ : چار ان کے اور چار ہمارے مطالبات

  • email Email to a friend
  • print Print version
  • Add to your del.icio.us del.icio.us
  • Digg this story Digg this

Did you enjoy this article?

(total 0 votes)

Adjust font size: Decrease font Enlarge font
image

ٹورانٹو کی اسکول انتظامیہ نےبالآخر اس وقت جھرجھری لی جب ویسٹ ویو کےاسکول C.W. Jeffery Collegiate میں15سالہ بچی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ شہر کے ایک وکیل جولیان فالکونر کی سربراہی میں ایک پینل تشکیل دیا گیا جسےٹورانٹو ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ کےدو اسکولوں کےداخلی حالات کی تحقیق کرنےکو کہا گیا۔ واضح رہےکہ جس اسکول میں مذکورہ قتل ہوا تھا اسی اسکول میں چند ماہ قبل ایک مسلم بچی کےساتھ 6 لڑکوں کےاجتماعی جنسی تشدد کا واقعہ بھی ہو چکا ہے۔
”اسکول کےحفاظتی معاملات کا ہمہ جہتی مطالعہ“ کےعنوان کےتحت جولین فالکونر کی ٹیم کی ایک ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ نےمندرجہ ذیل حقائق پیش کئےہیں:
طلباءمیں بندوق، اسلحہ اور ڈاکہ زنی کی صورتِ حال
۔ جیفری اسکول کے18 فیصد اور ویسٹ ویو کے15 فیصد طلباءنےبیان کیا کہ انہیں اسلحہ سےڈرایا جا چکا ہے۔
۔ گزشتہ دو سالوں کےاندر ویسٹ ویو کی 37 فیصد طلباءتشدد کا نشانہ بن چکےہیں۔
۔ ویسٹ ویو کےقریباً ایک چوتھائی طلباءنےاسکول کےاندر اسلحہ کو دیکھا۔
۔ گزشتہ دو سال کےاندر جیفری اسکول کےگیارہ اور ویسٹ ویو کےدس فیصد طلبا کو اسلحہ کےذریعہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
۔ گزشتہ دو سالوں میں جیفری اسکول کے12 فیصد اور ویسٹ ویو کی 3 فیصد طلباءنےبندوق کا نشانہ بننےکی نشاندہی کی۔
اسکول کا عملہ اور حفاظتی امور
۔ جیفری اسکول کی 151سٹاف ممبرز نےخود کو اسکول میں غیر محفوظ سمجھنےکا ذکر کیا۔
۔ دونوں اسکولوں کی 94 فیصد طلباءغیر سفید فام ہیں جب کہ اساتذہ کی اتنی ہی تعداد سفید فام ہے۔
۔ جیفری اسکول کی 86 فیصد اور ویسٹ ویو کے 78 فیصد اساتذہ نےطلباءکو نشہ کی حالت میں دیکھنےکا ذکر کیا۔
۔ ویسٹ ویو کے40 فیصد اساتذہ نےطلباءکو اشیاءکی چوری کرنےکا خود مشاہدہ کیا۔
۔ 48 فیصد سیاہ فام طلباءنےنظم و ضبط اور مارک شیٹ میں امتیازی سلوک روا رکھےجانےکا ذکر کیا جب کہ صرف چند اساتذہ نےنسل پرستی کو مسئلہ قرار دیا۔
بدمعاش گروہ (GANGS)
۔ویسٹ ویو کی39 فیصد طلباءنےطلباءکےبدمعاش گروہوں کی رکنیت کا اعتراف کیا جب کہ63 فیصد نےماضی میںایسی رکنیت کا اعتراف کیا۔
۔ ویسٹ ویو کےبدمعاش گروہ کی 70 فیصد اور جیفری اسکول کی 63 فیصد ارکان نےاعتراف کیا کہ گزشتہ دو سالوں میں ان کا بندوق سےواسطہ رہا ہے۔
خنجر
۔ ویسٹ ویو کی 52 فیصد طلباءنےگزشتہ دو سالوں میں خنجر دیکھنےاور 19 فیصد نے4 سےزیادہ بار خنجر دیکھنےکا ذکر کیا۔
۔ ویسٹ ویو کی141طلباءنےاعتراف کیا کہ وہ گزشتہ دوسالوں میں خنجرلےکر اسکول آئےہیں اور ان میں سے51 فیصد نےاعتراف کیا کہ انہوں نےایسا متعدد بار کیا ہے۔
۔73 طلباءنےخنجر سےڈرائےجانےکا بیان دیا۔
جنسی حملے
۔ جیفری اسکول کی 19 فیصد طالبات اور ویسٹ ویو کی 7 فیصد طالبات نےقبول کیا کہ گزشتہ دو سالوں کےدوران ان پر جنسی حملہ ہو چکا ہی۔ مشرقی اور جنوب مشرقی لڑکیوں کےمقابلےمیں سفید فام اور سیاہ فام لڑکیاں زیادہ جنسی حملوں کا نشانہ بنیں۔
۔ ویسٹ ویو کی 29 فیصد طالبات نےبتایا کہ ان کو ان کی مرضی کےخلاف جنسی زیادتی (پکڑنےاور دبوچنے) کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ اعداد و شمار ٹورانٹو کےصرف ان اسکولوں کےہیں جہاں قتل جیسےانتہائی جرم کےبعد اسکولوں کی حالتِ زار جاننےکیلئےباقاعدہ تحقیقی پینل بٹھایا گیا۔ اس پینل کی رپورٹ کےدرج بالا اعداد و شمار مسلم والدین کی آنکھیں کھولنےکیلئےکافی ہونےچاہئیں۔ ہم یہاں اپنےدادا کے زمانےکے خط کے ایک ا ندامیں کہیں گےکہ: ”تھوڑےلکھےکو زیادہ جانو اور خط کو ٹیلیگرام سمجھو“۔
اس تحقیقاتی پینل نےاس بات کا اعتراف کیا ہےکہ اسلحہ اور تشدد کےواقعات پورےشہر کےاسکولوں میں عام ہیں۔ پینل نے”خاموشی کی ثقافت“ کا بھی اعتراف کیا ہی۔ کیونکہ 80 فیصد طلباءنےاعتراف کیا ہےکہ وہ کسی تشدد کا سامنا کرنےکےبعد خوف کےباعث اسکول کی انتظامیہ یا پولیس کو رپورٹ کرنےسےگریز کریں گے۔ خاص کر جنسی تشدد کا نشانہ بننےوالی لڑکیاں اپنےساتھ ہونےوالی زیادتی کی رپورٹ کرنےکی ہمت نہیں رکھتیں۔ اساتذہ نےبھی اعتراف کیا کہ وہ سیاسی اور بیوروکریسی کےردِعمل کےخوف سےخاموش رہنےکو ترجیح دیتےہیں۔ اسکولوں کی 41 فیصد عملےنےاسلحہ کا شکار ہونےیا اسلحہ کی زد پر لوٹےجانےکےخوف کا اظہار کیا۔
یہ رپورٹ ایک روایتی رپورٹ کی بجائےڈھائی لاکھ سےزیادہ طلباءو طالبات کی تعلیم و تربیت اور مستقبل کےذمہ دار ٹورانٹو اسکول بورڈ کےخلاف ایک باقاعدہ چارج شیٹ ہے۔اور اس بارےمیں اس حقیقت کو واضح طور پر جان لینا چاہیےکہ اس رپورٹ میں دئےگئےاعداد و
شمار صرف ٹورانٹو تک ہی محدود نہیں۔ شمالی امریکہ کےکسی بھی ضلعی یا علاقائی بورڈ کا جائزہ لیا جائےتو صورتِ حال اس جیسی یا اس سےبھی زیادہ تباہ کن نظر آئےگی۔ اور افسوسناک بات یہ ہےکہ اسکولوں کی اس حد تک بگڑی ہوئی صورتِ حال کا کوئی حل ان مسیحاوں کے پاس نہیں ہی۔
فالکونر تحقیقاتی پینل نےاپنی رپورٹ میں جو 126 تجاویز پیش کی ہیں ان میں چار نمایاں اور بنیادی تجاویز درجِ ذیل ہیں:
1۔ زیادہ سےزیادہ اساتذہ اسکول کےکمروں کی نگرانی کریں۔
2۔ اسکول میں زیادہ سےزیادہ بالغوں یعنی سماجی کارکنان، حاضری کےمشیر، نوجوان کارکنان اور زیادہ سےزیادہ اساتذہ کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
3۔ تمام طلباءکے لے ایک جیسا اسکول یونیفارم پہننےکااصول اپنایا جائے۔
4۔ اسلحہ سونگھنےوالےکتوں کےذریعہ طلباءکےلاکرز کی باقاعدہ تلاشی لی جائے۔
تقریباً تمام ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ فالکونر ٹیم کی تجاویز ناقابلِ عمل ہیں اور ان پر عملدرآمد کرانےکی ”قیمت“ اتنی زیادہ ہےکہ ڈالر ڈالر کا محتاج ٹورانٹو ڈسٹرکٹ بورڈ ان اخراجات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مزید بر آں اگر بھاری قیمت ادا کر کےان تجاویز پر عمل کر بھی لیا جائےتو کیا اسکول ان جرائم سےپاک ہو جائیں گے؟ اس ”تعلیمی نظام“ سےباہر کا معمولی سمجھ بوجھ کا فرد بھی اس سوال کا جواب نفی میں دےگا۔ لیکن جن ماہرین نےاس رپورٹ اور تجاویز کو مرتب کیا ہےوہ خود اسی نظام کی پیداوار ہونےکےباعث علمی اور ذہنی طور پر اس قدر مفلوج ہو چکےہیں کہ وہ اس مسئلےکا کوئی حل پیش ہی نہیں کر سکتے۔ حقیقت تو یہ ہےکہ حالات سےاوپر اٹھ کر سوچنا، گہرائی سےجائزہ لینا اور نئےخیالات و عملی تجاویز پیش کرنا اس نظام کی پیداوار شخصیات کےبس کا روگ ہی نہیں۔
اب تعلیمی نظام کو سیدھی راہ پر چلانےکے لے مذہب، تاریخ، فلسفہ، ثقافت، معاشرت اور تعلیمی نظام کےبارے میں گہری اور عمیق نظر رکھنےوالےلوگ ہی تجاویز پیش کر سکتےہیں۔
اوراب وقت آ گیا ہےکہ اس نظام سےذہنی، فکری و عملی طور پر آزاد افراد کی رائےکو اہمیت دی جائی۔ اس بارےمیں مسلم اور غیر مسلم والدین کو حکومت اور سیاستدانوں کو بار بار خبردار کرتےہوئےاپنےمطالبات پر زور دینا چاہیے۔ ہم موجودہ تعلیمی نظام کی اصلاح کیلئےچار تجاویز پیش کر رہےہیں:
مخلوط تعلیم کا خاتمہ : بچوں اور بچیوں کیلئےعلیحدہ اسکول بنائےجائیں۔ جو اسکول پہلےسےقائم ہیں انہیں دو حصوں میں تقسیم کر کےلڑکوں اور لڑکیوں کیلئےعلیحدہ اساتذہ اورعلیحدہ منتظمین مقرر کئےجائیں۔ بےشمار تحقیقاتی مطالعےسےیہ ثابت ہو چکا ہےکہ لڑکےاور لڑکیوں کےعلیحدہ اسکولوں سےجرائم میں کمی اور تعلیمی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ امریکہ کےچند علاقوں میں اس کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے۔
اسکول میں مذہب کی تعلیم : بچوں کو سیکولر (بےخدا تعلیم نہ دی جائےاور یہ نہ بتایا کہ جائےکہ انسان بندر کی اولاد ہے۔ (ایک احمقانہ امکان کو سائنسی حقیقت کےطور پر پیش کرنا انتہائی بددیانتی ہی)۔ طلباءپر واضح کیا جائےکہ یہ نظریہ مذہب دشمن اور خدا کےباغی ڈارون کی ابلیسی ذہنیت کی اختراع ہے۔ انہیں بتایا جائےکہ جب تم بچوں کو یہ پڑھاوگےکہ انسان حیوان ہےاور انسانی نسل بندر سےشروع ہوتی ہےتو پھر ایسی تعلیم کےبعد اس نظامِ تعلیم سےانسانوں کی بجائےبندر ہی پیدا ہوں گے۔تمام مذاہب کا بنیادی عقیدہ ہےکہ انسان اس دنیا میں ایک ذمہ دار اور جواب دہ مخلوق کی حیثیت سےآیا ہے۔ بچوں کےذہنوں میں یہ حقیقت جاگزین کرنےسے ہی وہ ایک ذمہ دار انسان کی حیثیت سے پروان پائیں گے۔
اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ کو حضرت عیسیٰ کی پاکیزہ زندگی اور حضرت مریم کی باحیا زندگی کے بارے میں بتایا جائےکہ انہیں کسی مرد نےہاتھ نہیں لگایا تھا۔ حضرت مریم کی حجاب کی روایت کو اب صرف مذہبی مسلم گھرانے، عیسائی راہبائیں اور چند یہودی اور ہندو گھرانوں نےباقی رکھا ہے۔ ہندووں کےاندر بھی حجاب کی روایت بہت قدیم اور مستحکم رہی ہی۔ ہندووں کی مقدس شخصیت رام کی بیوی سیتا کو راون نےاغوا کر لیا لیکن رامائن سےیہ بھی معلوم ہوتا ہےکہ راون نےبعد میں اس بات کا اعتراف کیا کہ اس نےسیتا کےصرف پاوں دیکھےتھی۔ اس کا مطلب اس کےسوا اور کیا ہےکہ سیتا مکمل حجاب میں تھی۔ ہماری تجویز ہےکہ اسکول میں رام، سیتا،گرونانک، بدھ، ابراہیمٰٰ ، موسیٰ، عیسیٰ، مریم اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، عائشہ اور فاطمہ کےلباس اور سادہ طریقہ زندگی کو اختیار کرنےکی تعلیم و ترغیب دی جائی۔ہالی وڈ اور بالی وڈ کی ثقافتی غلاظت اور ننگی، بےحیا، بےضمیر، بد اخلاق مثالوں سےبچوں کےمعصوم ذہنوں کو محفوظ رکھا جائی۔ مذہبی اور اخلاقی اقدار سےخالی نظامِ تعلیم سےچھٹکارا حاصل کرنا ضروری ہے۔ انسانیت کا مستقبل اس بات سےوابستہ ہےکہ ہم مروجہ عالمی تعلیمی نظام کو کسی طرح انسانیت سےمربوط کرتےہیں۔
3
۔ مذہبی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کےلئےاساتذہ کا تقرر
ہر اسکول میں بچوں کےوالدین کی خواہش اور مذہب کےمطابق مختلف مذاہب کےاساتذہ کی تقرری کی جائے۔ یہ اساتذہ مخصوص مذہبی تعلیم و اخلاق سےکےساتھ ساتھ مختلف مذہبی، لسانی اور نسلی گروہوں کےاندر رواداری کو فروغ دینےکا فریضہ انجام دیں۔ اس طرح ملک و قوم میں ہم آہنگی اور تعاون کی فضا بنےگی اور نسلی اور مذہبی عدم برداشت کا رحجان ختم ہو گا۔ پولیس اور امن و امان قائم رکھنےکیلئےبھاری نفری کےمقابلےمیں انتہائی کم تعداد میں اساتذہ کےذریعےاسکولوں میں مکمل امن قائم کیا جا سکتا ہے۔
4۔ اگر ذمہ داران کےنزدیک ان تجاویز پر عمل کرنا ناممکن ہےتو پھر اسکول بورڈ اپنےتعلیمی بجٹ کو مختلف مذہبی گروہوں (بشمول ملحدوں کے) کےدرمیان ان کی آبادی کےتناسب سےتقسیم کر دیا جائے۔ اسکول بورڈ صرف امتحانات اور معاونت میں حصہ دار بنے۔ مختلف کمیونٹیز پر جب ان کی اپنی کمیونٹی کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری آن پڑےگی تو اس کا نتیجہ ہر صورت میں ان ذمہ داروں کی کوششوں سےبہتر ہو گا ۔
بظاہر یہ چاروں تجاویز دیوانےکی بڑ محسوس ہوتی ہیں لیکن یاد رکھئےکہ کسی بھی سطح کےگلےسڑے نظام کےخلاف آواز اٹھانےاور اس کےخلاف جدوجہد کرنےوالوں کو ہمیشہ دیوانہ ہی سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہ اور بات ہےکہ دنیا میں ہر سطح پرآج جو بھی اچھا یا برا نظام ہےوہ عام
ذہنوں کی بجائے”دیوانوں“ کا ہی تشکیل کردہ ہے۔ اگر مسلم والدین ہر موقعہ خواہ وہ والدین اساتذہ کی میٹنگ ، اسکول انتظامیہ سےملاقات، سیاستدانوں سےمطالبہ، آپس کی گفتگواور، تحریر و تقریر میں ان نکات پر توجہ مرکوز کر دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ موجودہ تعلیمی نظام سےپریشان والدین اور معاشرہ متبادل تجاویز کو سنجیدگی سےنہ لے۔
ان تجاویز پر عملدرآمد یقینا ہمارےاختیار سےباہر ہے لیکن اپنےبچوں کی ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ڈال دی گئی ہےاور اس سےعہدہ براءہونےمیں ہی ہماری ذاتی اور اجتماعی بھلائی ہے۔ اس لئےہمیں فوری طور پر درجِ ذیل اقدامات پر توجہ دینی چاہیے:
1۔ موجودہ پبلک نظامِ تعلیم کو بدلنےکیلئےبھرپور کوشش۔ اس کیلئےاپنی کمیونٹی سےباہر کےوالدین کا تعاون حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
2۔ ایک متبادل قابلِ عمل کل وقتی اسکولوں کا نیٹ ورک اور اس کیلئےنظامِ تعلیم وضع کرنا۔
3۔ اسکول کےبعد اسکول (
After School) کا ایک جامع نصاب اور نظام قائم کرنا جو پبلک اسکولوں میں جانےوالےبچوں کی اخلاقی تعلیم و تربیت، قرآن و حدیث کی تعلیم اور ریاضی، سائنس اور دیگر اکیڈمک شعبوں میں مہارت پیدا کر سکے۔
4۔ والدین کی تنظیم اور اجتماعی سطح پر بچوں کیلئےمساجد، اسلامی مراکز، دفاتر اور گھروں میں ہوم اسکولنگ کا انتظام اور مکمل نظام تربیت وضع کرنا۔
یاد رکھیں کہ زمانہ قیامت کی چال چکا ہےاور اگر اب بھی ہم نہ سنبھلےاور کوئی جوابی چال نہ چل سکےتو زمانہ ہمارے سنبھلنےکا انتظار کئے بغیر ہمیں روندتا ہوا نکل جائےگا۔

اسکول، مدرسہ، نظامِ تعلیم پر دیگر مضامین کیلئےویب سائٹ دیکھیں: www.dailymuslims.com
جاوید انور سےای میل کےذریعہ
jawed@dailymuslims.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔


Post your comment comment Comments (0 posted)