نسلی اسکول کا معاملہ اور مسلمانوں کا نیا نظام تعلیم

  • email Email to a friend
  • print Print version
  • Add to your del.icio.us del.icio.us
  • Digg this story Digg this

Did you enjoy this article?

(total 0 votes)

Adjust font size: Decrease font Enlarge font
image

فروری کا مہینہ ٹورانٹو، کینڈا میں افریقی نسل کےطلباءکےلئےعلیحدہ افریقی مرکزیت کے اسکول کےمباحثہ میں گزرا۔ اس بار یہ مطالبہ ٹورانٹو اسکول بورڈ میں زیر تعلیم سیاہ فام افریقی طلباء کےو الدین کی جانب سےآیا ہےاورٹورانٹو بورڈ کےممبران نےاسےاکثریت سےمنظور بھی کر لیا ہے۔ واضح رہےکہ نسلی تفریق کےزمانےمیں جب گوروں اور کالوں کےا سکول علیحدہ ہوا کرتےتھے، ایک طویل جدوجہد کےبعد مشترکہ اسکول کی پالیسی اختیار کی گئی تھی ۔امریکی سپریم کورٹ کے1954 میں براون بمقابلہ بورڈ آف ایجوکیشن مقدمہ کےفیصلےمیں اس تفریق کو ختم کیا گیا تھا۔ سوال یہ ہےکہ آخر وہ کون سی وجہ ہےکہ اب افریقی نسل کےوالدین اپنےبچوں کےلئےعلیحدہ یا افریقی اکثریت و مرکزیت والےاسکول کےحق میں کھڑےہو گئےہیں؟ کیا یہ انگریزی، ریاضی، اور سائنس کی تعلیم اور مخصوص طبقےکیلئےمعیارِ تعلیم کا معاملہ ہے؟
نہیں۔ اصل معاملہ تاریخ (سماجی علوم ) اور ثقافت کا ہے۔ کثیر الجہتی ثقافت کی بلند بانگ دعویدار سفید فام اکثریت دراصل تاریخ کےنام پر جھوٹ اور ثقافت کےنام پر فحاشی پھیلا رہی ہے۔ تاریخ کےوہ صفحات جس میں افریقیوں کو ان کےممالک سےبھیڑ بکریوں کی طرح پکڑا گیا اور اس سےبھی بدتر حالت میں انہیں سمندری جہازوں میں ٹھونس کر لایا گیا جس میں بہت سےلوگ راستےمیں ہی جاں بحق ہو جاتےتھے۔ یہاں کاشتکاری میں انہیں گھوڑوں اور بیلوں کےمتبادل استعمال کیا گیا بلکہ اس سےبھی بدتر کہ جانوروں کےبرعکس یہ غلام عقل اور دماغ بھی رکھتےتھے۔ بدترین انسانی غلامی پر محیط صدیوں کی اس تاریخ کو نسل پرست سفید فام یا تو غائب کر دیتےہیں یا اس کی ایک الگ اور اپنی پسندیدہ توجیہ کرتےہیں جو افریقی نسل کےزخم پر نمک چھڑکنےکےمترادف ہے۔
علاوہ ازیں سفید فام نسل کا تاریخی قاتلوں ،ڈاکوُں اور انسانی قصابوں کو ہیرو کےطور پر پیش کرنا اور افریقی قومی ہیروز کو زیرو بنا دینا نسلی منافرت میں اضافہ کرتا ہے۔ سفید فام تاریخ کےسفید جھوٹ کا اندازہ اس سےلگا یا جا سکتا ہےکہ بحری قز اق کولمبس جس نےبلامبالغہ تاریخ انسانی میں مقامی آبادی کی سب سےبڑی نسل کشی کی ہےاسےسب سےبڑا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔غلامی کےطویل تاریخی عمل میں سیاہ فام نسل سےاس کا مذہب ، اقدار، عقیدہ، تہذیب و ثقافت سب کچھ چھن لیا گیا ہے۔ جولیان فالکونر کی تحقیقاتی ٹیم نےٹورانٹو اسکول بورڈ کےدو اسکولوں (جعفری کالیجیٹ اور ویسٹ ویو اسکول ) کےمتعلق جو رپورٹ بنائی ہےاس میں کہا گیا ہےکہ ” ان دونوں اسکولوں میں 94 فی صد طلباءغیر سفید فام ہیں جب کہ اساتذہ کی اتنی ہی بڑی تعداد سفید فام کی ہی“۔
آخر کیوں؟ اور اگر ان ” اکثریتی سفید فام اساتذہ“ کا مذہب معلوم کر لیا جائےتو حیرت انگیز انکشافات متوقع ہیں ۔واضح رہےکہ کثیرالنسلی شہر نیویارک کےپبلک اسکولوں میں سماجی علوم کی85 فی صد اساتذہ کی تعداد اقلیتی مذہب یہودیوں (اکثریت خواتین ) کی ہے۔ ا ن کا کیا ا یجنڈہ ہے؟ اور وہ کیا پڑھاتےاور کیا سکھا تےہیں؟ اسرائیل کی تاریخ جس میں دہشت گرد اور قابض ملک اسرائیل کو جمہوریت اور امن کا پیامبر بتانا اور ثقافت کےنام پر بےحیائی اور فحاشی کی ترغیب دینا ۔

واضح رہے کہ بالی ووڈ سےلےکر انٹرنیٹ کےبلین ڈالرز کی فحاشی کی صنعت (بشمول فیشن اورتفریح) پر مخصوص طبقےکی اجارہ داری ہے۔ جبکہ ”کارکنوں“ کی اکثریت ہائی اسکول اور کالج کی طالبات ہیں اور یہ تعداد لاکھوں میں ہی۔
ایسوسی ایٹ پریس(
AP) کی ایک رپورٹ کےمطابق امریکہ میں گزشتہ پانچ برسوں میں 500 اساتذ ہ کےخلاف طلباءکےساتھ جنسی بےضابتگی کی اطلاعات رپورٹ کی گئی ہیں ۔ اگر ٹورانٹومیں فالکونر کےرپورٹ کو سامنےرکھیں جس میں 80 فی صد طلباءنےکہا ہےکہ وہ اس قسم کی زیادتیوں کو رپورٹ کرانےسےگریز کریں گےتو ایسےواقعات کےحجم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی واضح رہےکہ اکثر صورت حال میںطلباءکی مرضی بھی شامل ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہےکہ یہاںہر نسل رنگ اور مذہب کےماننےوالوں کی اکژیت خصو صاً امیگرینٹ اس نظام کا گھٹن محسوس کرتےہیں اور یہ کلچرل موزیک اتنا ”خوبصورت“ نہیں ہےجیسا کہ بتایا جاتا ہے۔ اس نظام تعلیم کا پہلا نتیجہ والدین کی نافرمانی، ان کا ہتک اور ان کی بےعزتی ہی۔ بقول اکبرالہ بادی

وہ ایسی سب کتابیںقابل ضبطی سمجھتےہیں

جنہیں پڑھ کر بیٹےباپ کو خبطی سمجھتےہیں
اب سوال یہ ہےکہ کیا افریقی مرکزیت کا اسکول ان کےمسائل کا حل ہے؟ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ مقصد حیات سےعاری اور زندگی کےکسی اعلیٰ مقصد کےبغیر کوئی قوم اپنا نظام تعلیم وضع نہیں کر سکتی ہے۔شمالی امریکہ میں آباد افریقی سیاہ فام آبادی کےبارےمیں تاریخی تحقیق یہ بتاتی ہےکہ ان کی اکثریت مسلمان تھی۔ان کےعیسائی آقاوُں نےانہیں کئی نسل کےبعد عیسائی مذہب میں رنگ لیا۔ اور یہی وہ حوالہ اور وہ بات ہےجو اس مضمون میں کہنا چاہوں گا کہ سیاہ فام آبادی کےحوالہ سےہم تمام مسلمانوں پر ایک خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہی۔اگر میں ایک حوالہ اور دےدوں جو سیدنابلال رضی اللہ تعلی عنہ کاہے تو بات اور واضح ہو جائےگی۔
اگر سیدنا بلال کی نسل سے،ان کےتعلق سے، ان کےخاندان سےاور ان کےذریعہ سےکوئی مسلمان تھا اور آج وہ کفر اور شرک میں مبتلا ہےاور یہاں ہمارےدرمیان میں ہےتو آخرت میں ہم کیا جواب دیں گے؟ عاشقین رسول اور صحابہ کرام جواب دیں۔
یہاں ہم ایک واقعہ کا ذکر کریں گے۔ایک ہندوستانی مسلمان مکہ میں جاکر آباد ہو گئے۔ ان کی بزرگی اور تقویٰ دوسروں کےلئےمثال تھی۔ان کےبارےمیں کئی واقعات ایک صاحب نےکراچی میں سنائےتھےاور اس انداز سےسنائےتھےکہ سننےوالےکی آنکھوں سےآنسو چھلک پڑتےتھے۔وہ ایک عجیب انداز کےشخص تھے کہتےہیں کہ انھوں نےاپنی ہوش وہواس کی زندگی میں کبھی سیاہ رنگ کا جوتا نہیں پہنااور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کےمحبوب ، ان کےعاشق سیدنا بلال کا رنگ سیاہ تھا۔ دیکھیں حسن اور عشق کےکیسےکیسےانداز ہوتےہیں۔
لیکن سوال ہےکہ ہم مسلمانوں کےپاس افریقی نسل کےطلباءاور والدین کےلئےکیا ہے؟ ہم خود اپنا نظام تعلیم تاریخ میں گم کر چکےہیں ۔اور کئی صد سالہ برطانیہ کی وی وی آئی پی غلامی کےنتیجےمیں مغربی نظام تعلیم پرایمان اتنا پختہ ہو چکا ہےکہ ہم اس میں ماحول کی معمولی خرابی کےعلاوہ کوئی برائی نہیں پاتے۔یا ہم میں سےکچھ اس منہدم شدہ عمارت کی چند اینٹیں لئےہوئےاسلامی اسکول اور مدرسہ کی زندگی کا تاثر دےرہےہیں۔اور اس میں کچھ” "سیکولر“ تعلیم ملا کر یا سیکولر تعلیم میں دینی تعلیم کی پیوند کاری کر کےاسلامی نظام تعلیم کا تاثر پیدا کر رہےہیں۔ا یسی زیادہ ترکوششیں انسان میں بندر کی کھوپڑی یا بندر میں انسان کی کھوپڑی لگانےکےمترادف ہے۔
بہر حال ہر وہ سنجیدہ کوسش جو اس اسلامی نظام تعلیم کو لانےکےلئےکی جائےیا کی جارہی ہےاسےقدر کی نگاہ سےدیکھنا چاہئے۔پبلک اسکول کو بھی بدلنےکےلئےکچھ ماڈلز چاہئیں ۔اور دوسری بات یہ ہےکہ نظام تعلیم کسی قوم و ملک کی تہذیبی اساس ہوتا ہےاور اسی بنیاد پر تعلیم کےمقاصد متعین ہوتےہیں اور اسےکوئی بڑا انقلاب ہی بدلتا ہےیا بدل سکتا ہے۔مغربی نظامِ تعلیم (اگر اسےتعلیم کا نام دیا جائی) کا مقصدمعاشی مشینری کو چلانےکےلئےپیداواری کارکن کےحصول کےسوا کچھ نہیں۔مجھےنہیں معلوم کہ اسلامی اسکول ،مدرسہ یا مسلم اسکول کےمنتظمین میں سےکتنےایسےہوں گےجنھوں نےاپنےیہاں دی جانےوالی تعلیم کا اصل مقصد متعین کیا ہو۔ مجھےاس حوالےسےجو جوابات ملےہیں وہ ہیں۔"دین و دنیا دونوں کی تعلیم“، ”اسلامی اور سیکولر تعلیم مسلم (یا اسلامی) ماحول میں“، ” قرآن کی تعلیم“ ، ”حفظ کرانا یا عالم کورس کرانا“ وغیرہ وغیرہ۔
ظاہر ہے یہ جوابات اسلام کےتعلیمی مقاصد نہیں ہیں اور جب تک ہم اسلام کےتعلیمی مقاصد کو متعین نہیں کر لیتےاس وقت تک ہم نیااور کامیا ب نظام تعلیم نہیں دےسکتے۔ ہم یہاں اختصار کےساتھ قرآن و سنت کی روشنی میں اسلامی نظام تعلیم کےمقاصد کی تعریف کریں گےاور اس بحث (مقاصد تعلیم )کو اگلےمضمون تک موخر کریں گے۔یہاں یہ بھی واضح کرتا چلوںکہ اسلامی اصول سےوضع کردہ جدید تقاضوں سےہم آہنگ تعلیمی نظام کو ہم عام فہم بنانےکےلئےنیا نظام تعلیم کہیں گے،اور ”مسلم بچے“ اور ”غیرمسلم بچے“ کی تفریق نہیں کریں گی۔رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کی روشنی میں کہ بچےمسلم پیدا ہوتےہیں اور ان کےوالدین انہیں یہودی ،نصرانی یا مجوسی بناتےہیں۔کیونکہ بچےاپنی فطرت پر پیدا ہوتےہیں اور اسلام دین فطرت ہی۔چنانچہ مسلم بچےاور غیر مسلم بچےکی اصطلاحات غیر اسلامی ہیں۔علاوہ ازیں ہم جس نظام تعلیم کی بات کر رہےہیں اسےہمارےاسلاف نےایک عالمی نظام تعلیم کےطور پر پیش کیا تھا اور وہ جہاں بھی ہجرت کر کےگئےاسی نظام تعلیم کےمطابق اس ملک اور بستی کےتمام لوگوں کی تعلیم و تربیت کی اور اس طرح پوری آبادی ،اقوام و ممالک اسلام کےدائرہ میں آتےچلےگئے۔تلوار کےبغیر عرب سےدنیا کےدوردراز علاقوں میں اسلام کی وسعت کا اصل راز یہی ہے۔ اور ہم سمجھتےہیں کہ اسےدوبارہ یہاں مغرب میں اسی طرح بروئےکار لایا جا سکتا ہے۔ شرط صرف قوت ایمانی اور جرات کی ہے۔ ہم جس نظام تعلیم کی بات کریں گےاس کی نوعیت اقدامی ہےنہ کہ دفاعی ۔ہم بعض مسلمانوں کی اس” خوبصورت تجویز“ کہ پبلک اسکول میں جانےوالےبچےکےوالدین اپنےگھر کےماحول کو اسلام کا گہوارہ بنا کر بچوں کو بچا لیں‘ ایک نیک خواہش ضرور ہےلیکن ایسےحالات میں جبکہ 90 فی صد مسلمان اسلام کےبنیادی عقائد اور تعلیم و تربیت کےبنیادی اصولوں سےبھی ناواقف ہوں تو پھر یہ خواہش زیادہ عملی حیثیت نہیں رکھتی۔ البتہ ایسی کوششیں ضرور ہونی چاہئے۔
رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی معلمی میں مسجد نبوی کےساتھ مدرسہ صفہ کےقیام سےلےکر مسلم خلافتوں اور ریاستوں کےمکمل انہدام اور سامراجی ممالک کےتسلط سےپہلےتک اسلامی دنیا میں جیسےبھی اور جتنےبھی نظام رائج رہےہوں ان کےتعلیمی مقاصد ایک تھے:
سیرت و کردار سازی،اخلا ق کو سنوارنا اور اخلاص باﷲمیں رسوخ۔قرآن کی اس دعاء ”اور اےمیرےرب ،ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سےایک ایسا رسول اٹھایئو،جو انھیں تیری آیات سنائی،ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دےاور ان کی زندگیاں سنوارے۔تو بڑامقتدر
اور حکیم ہی۔“( البقرہ 129) تعلیم کےمقاصدطےپا گئےیعنی کتاب و حکمت کی تعلیم کےذریعہ زندگیوں کو سنوارنا۔ علاوہ ازیں دین و دنیا دونوں کی بہتری اور دونوں کےحسنات کو سمیٹنےکی اہلیت پیدا کرنا۔"اےہمارےرب ہم کودنیا میں بھی حسنہ(بہتری) عنایت کیجئےاور آخرت میں بھی حسنہ(بہتری) عنایت کیجئےاور ہمیں آگ کےعذاب سےبچالیجئے“ (البقرہ:(201۔یعنی اسلام کا تعلیمی نظام دین و دنیا کےحسین امتزاج سےتعمیر ہوتا ہےاور دونوں کی بہتری حاصل کرنےکےلئےہوتا ہے۔اور اصل مقصد یہ ہےکہ انسان دوزخ کی آگ سےبچ جائے۔
اب سوال یہ ہےکہ کیا دنیا کو دینےکیلئےمسلمانوں کےپاس کوئی متبادل اور قابل عمل نظام تعلیم ہےیا تیار کیا جا سکتا ہے؟ او ر یہ کہ کیا مسلمانوں کےکسی بھی فرد ، گروہ یا طبقہ کےپاس وہ ذہنی اور علمی استعداد ہےجس کےذریعہ وہ اس نظام تعلیم کو بروئےکار لا سکےگا۔ اس کا جواب”ہاں“ میں ہے۔ اور یہی وہ قیمتی متاع ہےجس کےذریعہ نہ صرف ہم اپنےعظمت رفتہ کو حاصل کر سکتےہیں بلکہ ا س دنیا کےتمام انسانوں کو بھی کامیابی،انصاف ، امن اور ترقی کی حقیقی شاہراہ پر گامزن کر سکتےہیں۔قرآن کی سورہ الرعد آیت 17میں کہا گیا ہےکہ”جو جھاگ ہےوہ اڑ جایا کرتا ہےاور جو چیز انسانوں کےلئےنافع ہےوہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے“ ۔اس قرآنی مثال سےیہ اصول طےپا گیا ہےکہ اس گروہ انسانی کی جڑیں دنیا میں مضبوط اور گہری ہوں گی جس کےپاس نفع بخشی کی صلاحیت ،اصول اور ضابطےہوں گی۔شمالی امریکہ میں رہنےوالےمسلمانوں کو ”نفع بخش“ تعلیمی نظام کی صلاحیتوں کو بروئےکار لا کر اپنی جڑوں کو یہاں مضبوط کرنا ہی۔’واپسی ‘ ، ’راہ فرار‘ ، اور’ بھاگ جانے‘ والی ذہنیت سےنکل کر ہمیں اپنےلئےاور اس ملک میں بسنےوالےانسانوں کےلئےافکار و اخلاق کی ایک نئی دنیا تعمیر کرنی ہے۔
سید جاوید انور سے
jawed@dailymuslims.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ویب سائٹ (
www.DailyMuslims.com

Post your comment comment Comments (0 posted)