Did you enjoy this article?
|
|
Sections
دنیا میں اس وقت شیطانی نظام کےغلبےکی اصل جڑ دنیا میں رائج نظامِ تعلیم ہے۔اسےہم مغربی نظام تعلیم ، سیکولر نظام تعلیم ، دنیا پرست نظام تعلیم یا کو ئی بھی نام دےلیں‘ اس کےموجد ابلیس اور اس کا مقصد نفس پرست اور دنیا پرست انسان بنانا ہے۔اس کا مقصد اخلاق سےعاری ایک ایسےخود غرض انسان کی تعمیر ہےجو ساری عمر معاشی جدوجہد اور کشمکش میں مبتلا رہے۔ اس معاشی کارکن کےپاس نہ اتنی فرصت و صلاحیت ہو کہ وہ اس اعلیٰ مقصد حیات کےبارےمیں سوچ سکےجس کیلئےاس کےخالق اور مالک نےپیدا کیا ہے۔ اردو کےمشہورشاعر اکبر الہٰ بادی نےاسےیوں بیان کیا ہے:
ہم کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے ہوئے، نوکر ہوئے، پنشن ملی اور مر گئے
ظاہر ہےمعاش جو اسباب زندگی تھا مقصد زندگی بن گیا تو اس فتنہ نےانسان کو اس راستےپر لگا دیا جو ابلیس کا راستہ تھا اور جس کی آخری منزل جہنم ہے۔
دوسری طرف انسان کےخالق اور مالک کا منشا کچھ اور ہے۔ وہ چاہتا ہےکہ جس طرح اس کائنات کی تمام دیگر مخلوقات اور ملائکہ بےچوں و چراں اپنےرب کےحکم کےتابع ہیں اور ذرا بھی انحراف نہیں کرتےاسی طرح انسان بھی ارادہ میں آزاد اور نا فرمانی کی صلاحیت کےباوجود اﷲ کےآگےجھکا رہےاور اسی کا حکم بجا لاتا رہے۔ ”زمین اور آسمان میں جس قدر جان دار مخلوق ہیں اور جتنےملائکہ ہیں سب اﷲ کےآگےسربسجود ہیں ۔وہ ہرگز سرکشی نہیں کرتی۔ اپنےرب سےجو ان کےاوپر ہی،ڈرتےہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہےاسی کی مطابق کام کرتےہیں“۔(سورہ النحل: ٩٤- ٠٥ )
دنیا میں رائج الو قت نظام تعلیم دراصل اﷲسےبغاوت اور سرکشی کا نظام تعلیم ہےاور اگر ہمیں اس دنیا کو بغاوت سےاطاعت کی طرف لےکر جانا ہےتو انسان سازی کےکارخانہ یعنی اسکول کو بدلنا ہوگا۔
یہ کام کوئی آسان کام نہیں ہے اس کےلئےبہت مضبوط ایمان اور ارادہ کی ضرورت ہے۔پہلا وسوسہ خود نفس کےاندر اٹھتا ہےکہ تم کون ہوتےہو یہ کام کرنےوالے۔اپنی شکل و صورت دیکھو، اپنی تعلیم دیکھو، نہ کسی یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی نہ کسی مدرسہ کی دستار بندی ، نہ تمہارا تعلیم و تعلم سےکیا تعلق؟ دوسرا وسوسہ یہ کہ جب بڑےبڑےنامی گرامی لوگ ناکام ہو چکےہیں تو تم کس طرح کامیاب ہو سکتےہو، تیسرا وسوسہ یہ کہ نظام تعلیم کا بدلنا حکومتوں کا کام ہےاور اس میں اس کےپیچھےاتنی بڑی معیشت ہوتی ہےکہ بڑی بڑی حکوتیں مطلوبہ سرمایہ مہیا نہیں کر پاتیں ۔ مثلاًنیو یارک اسٹیٹ اپنےتعلیمی بجٹ کےساتھ جوئےاور لاٹری کےذریعہ حاصل ہونےوالی تمام رقوم خرچ کرنےکےباوجود مطلوبہ سرمایہ نہیں جوڑ پاتے ، توتم ایک مفلس کیا کر سکتےہو۔اسکےبعد اس نئےنظام تعلیم کی بات کرتےہی اندر اور باہر سےمخالفت کا طوفان کھڑا ہوگا۔
ایمان اور ارادہ کی قوت سےانسان پہاڑ کو رائی بنا سکتا ہےاور اﷲکی مدد شامل حال ہو توایک امی اس کائنات کا بعد از اﷲ سب سےبڑا عالم بن سکتا ہےاور بوریہ نشینوں اور غلاموں کو دنیا کی سرداری مل سکتی ہے۔ یہ خلافت اورسرداری کا وعدہ ہےاﷲکی طرف سے اور اس میں کسی زمان و مکان اور ملک علاقہ کی قید نہیں ہی۔”اﷲ نےوعدہ فرمایا ہےتم میں سےان لوگوں کےساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کواسی طرح زمین میں خلیفہ بنائےگا جس طرح ان سےپہلےگزرےہوئےلوگوں کو بنا چکا ہے۔ ان کےلئےان کو اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دےگاجسےاﷲتعالیٰ نےان کےحق میں پسند کیا ہے(یعنی اسلام) اور ان کی( موجودہ ) حالت خوف کو امن سےبدل دےگا۔بس وہ میری بندگی کریں اور میرےساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور جو اس کےبعد کفر کرےتو ایسےہی لوگ فاسق ہیں“(النور: ٥٥)
آغاز
مشہور مقولہ ہےکہ ہزار میل کا سفر پہلےقدم سےشروع ہوتا ہی۔ہم آغاز ایک عملی صورت اورکم خرچ بالا نشینی سےکر تےہیں۔ یہ شمالی امریکا میں رائج After School کےطرز پر قائم ہو گا اسےیہاں ہم After School کےبجائے Above School یعنی بالا اسکول کہہ رہےہیں۔کیونکہ یہ پبلک اسکول کا ضمیمہ یاتتمہ نہیں ہےبلکہ یہ اسکول سےاوپر کا اسکول ہے۔
ہمارےپیش نظر شمالی امریکا یعنی امریکا اور کینیڈا اور یہاں کےمسلمانوں کی ضرورتیںہیں لیکن اس نظام کو کسی بھی ملک میں رائج کیا جا سکتا ہےاور خوبصورتی یہ ہےکہ یہ ہر جگہ یکساں موثر ہو گا۔
ٹارگٹ طلباء ابتدا میں ”بالااسکول“ کا ہدف وہ طلباءہیں جوکسی اسلامی اسکول میں نہیں جاتےاور جن کے لئےاسلامی تعلیمات اور اخلاق سازی کا کوئی انتظام نہیں ہی۔ہم یہاں”مسلم طلباء “ کےبجائےصرف طلباءکا لفظ جان بوجھ کر استعمال کر رہےہیں۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہےکہ ہم امکانات کو محدود نہیں کر رہےاور دوسری وجہ اﷲکےرسول کا یہ فرمان ہےکہ بچےمسلم پیدا ہوتےہیں اور یہ ان کےوالدین ہیں جو انھیں یہودی ،نصرانی اورمجوسی بناتےہیںاور اس کا مفہوم یہ ہےکہ بچےاپنی فطرت پر پیدا ہوتےہیں اور فطرت اسلام ہی۔چنانچہ ”بالا اسکول“ کےدروازے ہر بچےکےلئےکھلےہوں گے۔بلکہ نافرمان اولاد اور منشیات اور جرائم میں ملوث پبلک اسکول کےاخلا ق باختہ طلباءکےغیر مسلم والدین کےلئے”بالا اسکول“ امید کا مرکز بن سکتا ہی۔ہمیں یقین ہےکہ درست مارکیٹنگ اور بہتر منصوبہ بندی سے”بالا اسکول“ کےمراکز میں مسلم والدین کےساتھ ساتھ غیر مسلم والدین کی ایک بڑی تعداداپنےبچوں کو داخل کرانےکی خواہشمند ہو گی۔ اور اس طرح یہ دعوت اسلامی کا سب سےبہترین ذریعہ بن جائےگا۔
مقاصد
”بالا اسکول“ ، پبلک اسکول یا دیگر غیر اسلامی اسکولوں میںتعلیم پانےوالے بچوں کےلئےمندرجہ ذیل مقاصد متعین کرتا ہے۔
(١) ”بالا اسکول“ میں داخل طلباءکےاندر بہترین تعلیمی صلاحیت پیدا کی جائےگی یعنی طلباءریاضی، سائنس، اور انگریزی میں مہارت حاصل کریں گےاور پبلک اسکول میں اپنےہم کلاس طلباءکےمقابلےمیں واضح برتری حاصل کریں گے۔
(٢) ”بالا اسکول“ میں داخل طلباءعلم وحی یعنی القرآن اور سنت رسول یعنی حدیث اور سیرت کی بہترین تعلیمات سےروشناس ہوں گے۔
(٣) ”بالا اسکول“ کےطلباءکی اس طرح سیرت سازی اور کردار سازی کی جائےگی کہ وہ اپنے اخلاق سے پورے معاشرے اور خصوصاً پبلک اسکول کےماحول کو متاثر کریں گے۔ یعنی پبلک اسکول میں جانےوالےطلباءو طالبات بالا اسکول کےنظام سےگزر کر اعلیٰ تعلیمی صلاحیت، بہترین اسلامی تعلیمات سےمزین اور اخلاق اور کردار کی برتری سےپبلک اسکول کےماحول پر اپنی دھاک بٹھائیں گےاور اسلام کا چلتا پھرتانمونہ بن کر اسلام کےداعی بنیں گے۔ اور اس طرح وہ والدین جنہیں پبلک اسکولوں سے بچوں کا اخلاق تباہ کرنےکی شکایت ہےوہ فخر سےکہہ سکیں گےکہ ان کا بچہ اب پبلک اسکول کو متاثر کرنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔
بجٹ
بجٹ کا تذکرہ نصاب سےپہلےکرنےکا مقصد یہ خوشخبری ہےکہ اس نظام کو صفرسےلےکر کسی بھی بجٹ سےشروع کیا جا سکتا ہے۔یعنی اس نظام کی خوبی یہ ہےکہ اس میں کوئی متعین اخراجات نہیں۔اس اسکول جتنا کم یا زیادہ گُڑ ڈال کر جتنا میٹھا چاہےکیا جاسکتا ہے۔ یعنی بالا اسکول کا نظام باسانی قابل توسیع (expandable) اور اتار چڑھاو scalable کےقابل ہے۔
نصاب
”بالا اسکول“ (Above School) ہفتےمیں 5 دن (پیر تا جمعہ) روزانہ3 سی4 گھنٹے(مقامی حالات اور ضروریات کی مناسبت سے) اور مہینےمیں ایک ویک اینڈ کا نصاب پیش کرتا ہے۔اس میں گریڈ 4سےلےکر گریڈ12تک کےطلباءشامل ہوں گے۔اس نصاب کی اپنی کوئی مدت نہیں ہے ہر طالب علم گریڈ4 سےگریڈ 12تک اس میں شامل رہ سکتا ہےاور اسکول کی فراغت کےساتھ ہی ان کا داخلہ بالا اسکول سےختم ہو جائےگا۔
اس نصاب میں پہلا پیریڈ١ یک سےدو گھنٹہ اسکول کا ہوم ورک اور ٹیوٹڑنگ دوسرا پیریڈ قرآن اور تیسرا پیریڈ حکمت اسلام (وقفہ صلوٰة کےساتھ) اورمہینےمیں ایک ویک اینڈ پکنک اور کسی آوٹنگ کےساتھ تربیت اور تزکیہ کا پروگرام شامل ہے۔
یہا ں بعض لوگوں کےذہن میں یہ سوال یا خدشہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا اسکول جانےوالےبچوں پر3 تا 4گھنٹوں کا اضافی بوجھ قابل برداشت اور قابل عمل ہو گا؟ اس کا جواب یہ ہےکہ ہمارے یہاں ماضی میں (اور آج بھی اقامتی مدارس میں) طلبا ء نماز فجر سےنما ز عشاءتک نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں میں مصروف رہتےہیں۔یہاں امریکا اور کینیڈا میں کئی اقلیتی گروہ اور کمیونٹی ایسی ہیں جو3سی4 گھنٹےکا آفٹر اسکول چلاتی ہیں اور جن کا مقصد اپنی کمیونٹی کےطلباءکےاندر بہترین اکیڈمک صلاحیت پیدا کر کےاس ملک میں اپنا مقام پیدا کرنا ہے اور جن کا مطمح نظر صرف یہ دنیا ہے۔سوال یہ ہےکہ مسلمان جن کےلئےایمان کےساتھ زندہ رہنا زندگی ہےاور ایمان کے بغیر اپنی نسل کو اٹھانا خودکشی ہےاتنی دقت اور مشقت بھی برداشت نہیں کر سکتےجتنی غیر مسلم اقلیتیں اس دنیا کےلئےکرتی ہیں؟ واضح رہےکہ بالا اسکول میں ہوم ورک اور ٹیوٹرنگ کے بعد طلباء کے لئےگھر پر کرنےکا کوئی کام نہیں رہ جاتا ہے۔
تاہم جو لوگ پبلک اسکول کے ”فیوض وبرکات“ سےمطمئن اور اعلیٰ مقصد حیات اور ایمان کی روشنی کےقائل نہیں ہیں یا اس کےلئےوقت دینےاور محنت کےقابل نہیں، بالا اسکول کا نظام ان کیلئےنہیں ہےاور نہ ہی وہ ہمارےمخاطب ہیں۔ ہمارےمخاطب صرف وہ اہل علم ہیں جن کےبارےمیں قرآن میں آیا ہےکہ ”جو لوگ علم میں پختہ کار ہیںوہ کہتےہیں کہ ”ہمارا ان پر ایمان ہی،یہ سب ہمارےرب ہی کی طرف سے ہے“ اور سچ یہ ہےکہ کسی چیز سےصحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتےہیں“(آ ل عمران:٧)
پہلا پیریڈ جو ہوم ورک اور ٹیوٹرنگ کا ہےاس میں ہر طالب علم پر انفرادی توجہ دی جائےگی اور اس کی انفرادی ضروریات کو ملحوظ رکھا جائےگا۔مثال کےطور پر جس طالب علم کی ریاضی کمزور ہےاس کےلئےریاضی پر توجہ کی جائےگی۔کلاس کےوہ طلباءجن کی ریاضی اچھی ہےیا سینئرطلباءاپنےجونیئرطلباءکی مدد کریں گےاس طرح طلباءکےباہمی تعاون کےذریعہ اس شعبہ میں کم اساتذہ یا بعض صورت میں بغیر اساتذہ کے بھی کام چلایا جا سکےگا۔ ریاضی اور انگریزی زبان پر خاص توجہ دی جائےگی۔ ریاضی ذہن کی گرہوں کو کھولتا ہےاور عصرِ حاضر میں انگریزی زبان دنیا کےتمام علوم کی کھڑکی اور دنیا سےرابطےکا ایک اہم ذریعہ ہے۔
قرآن کی تعلیم کا آغاز ناظرہ اور تجوید سےہوگا اور وہی طریقہ رائج ہو گاجو بیشترمدارس اور مساجد میں رائج ہےاور کم از کم دوپارہ کےبرابر قرآن کی خواص اور ضرور ی سورتوںکےحفظ کےبعد عربی زبان کی تعلیم بہترین دستیاب استاد کی نگرانی میں شروع کی جائےگی۔عربی زبان چونکہ دینی علوم کی کھڑکی ہےاس لئےاس کی تعلیم کا اہتمام کاخصوصی طور پر کیا جائےگا۔اگر اس کا انتظام کہیں نہ ہو سکےتو کم از کم اردو زبان ضرور سکھائی جائےکیونکہ عربی کےبعداردو زبان میں بہترین اسلامی لٹریچر موجود ہے۔یہ کلاس طلباءکی عمر اور گریڈکےمطابق نہیں بلکہ ان کی اب تک کی قرآن کی تعلیم اور استطاعت کےمطابق ہو گا۔
تیسرا پیریڈ ایک نیا مضمون نئےعنوان (Wisdom of Islam) ”حکمت اسلامی“ کےتحت ہوگا۔اس کےعنوانات تو وہی ہوں گےجو قرآن و حدیث کےعنوانات ہیں یعنی اعتقادات، عبادات، معاملات، اخلاقیات، معاشرت، معیشت، معاشرتی آداب، اجتماعی معاملات، امر و نہی اور جنت و دوزخ وغیرہ۔ البتہ اسےپڑھایا اس طرح جائےگا کہ نوجوان اور نوخیز ذہنوں میں اٹھنےوالےہر سوال کا کافی اور شافی جواب مل جائےاور یہ طلباءاس لائق ہوں کہ نہ صرف وہ خو د اسلام کو ایک مکمل ضابط حیات کی شکل میں اپنی زندگیوں میں نافذ کریںبلکہ اسلام اور اس کےاعتقادات اور معاملات کےبارےمیں اٹھائےجانےوالےہر اعتراض اور پروپیگنڈا کا مقابلہ بھی کر سکیں اور جواب بھی دےسکیں۔ یہاں استاد طلباءکو زیادہ سےزیادہ سوالات اٹھانےاور مباحثےمیں حصہ لینےکا موقع دےگا اور ہر طالب علم کی کلاس میں عملی شرکت (participation)کو یقینی بنائےگا۔یہ کلاس علمی ورکشاپ کےطور پر چلایا جائےگا اور ہر طالب علم بیک وقت استاد بھی ہوگا اور شاگرد بھی۔
اس مضمون کےتحت چھوٹےبچےطہارت، وضو، عبادات کےطریقی،اسلامی آداب، والدین، اساتذہ، بڑوں اور چھوٹوں کےساتھ سلوک اور رویوں کی تعلیم وتربیت حاصل کریں گی، جب کہ بڑے بچے اجتماعی معاملات، اسلامی تہذیب، اسلامی ثقافت، اسلامیمعیشت، اسلامی سیاست، ریاست ،خلافت اور اسلام کےامن اور انصاف کےتصورات جیسےموضوعات پر تعلیم حاصل کریں گے۔ اسکےلئےمختلف عمر کےبچوں کےلئےنصاب تیار کیا جائےگا اور کتابیں شائع کی جائیں گی یا پہلےسےدستیاب کتابوں میں سےانتخاب کیا جائےگا۔اس مضمون میں نصاب اور غیرنصاب دونوں سےمدد لی جائےگی۔ مثال کےطور پرکسی اخبار،رسالہ یا کسی اور میڈیا میں شائع ہونے والےکسی متعلقہ مضمون پر گفتگوکی جا سکتی ہے۔ ا س موضوع کےاستاتذہ اور طلباء دونوں اپنےآنکھ اور کان کھلی رکھیں گےاور حالات حاضرہ اور جس ریاست اور ملک میںوہ رہتےہیں ان کےبارےمیں بھرپور معلومات رکھیں گے۔
ماہ میں ایک ویک اینڈ (ہفتہ یا اتوار یا دونوں دن) آوٹ ڈور یعنی اپنےگھر اور مقام سےدور کسی تفریحی اور خوبصورت مقام پر تمام طلباءاور اساتذہ جمع ہوں گے۔ اس پروگرام کے لئے نئے اور خاص اساتذہ اور تربیت کاربھی بلائےجا سکتےہیں اور اگر ایک شہر میں ایک سےزیادہ بالا اسکول چل رہےہوں تویہ آوٹ ڈور پروگرام مشترکہ ہوگا تاکہ وسائل کا زیادہ اور بھرپور استعمال ہو۔اس آوٹ ڈور پروگرام میں اسلامی آداب و اخلاقیات کی تربیت،تزکیہ نفس، حصول تقویٰ اور احسان کےطریقے،حقوق العباد، غیر مسلمین، مشرکین ،اہل کتاب اور ہم وطنوں میںدعوت اسلامی اور تبلیغ کےطریقہ کار، جاہلی نظام تصورات حیات انکےمقاصد اور مفاسد اور بطلان کی اسلامی حکمت عملی،طلباءکےاندر تقریری ، تحریری ،قیادتی ،انتظامی اور اجتماعی عمل کی صلا حیتوں کی بیداری اور تربیت شامل ہےاس آوٹ ڈور پروگرام میں کالج، یونیورسٹی و مدارس کے مسلم نوجوان طلباءکو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہےکہ بالا اسکول طلباءاور طالبات کےلئےعلیحد ہ ہو گا اور یہ کسی بھی سطح پر مخلوط نہیں ہوگا۔تاہم صرف ماہانہ پروگرام میں انتہائی ضرورت اور مجبوری کےتحت اوراختصاصی مضامین کے لئے طالبات کے لئے بزرگ مرداستاد اور طلباءکےلئےبزرگ خاتون استاد کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
چونکہ زرخیززمین پر ہی فصل لہلہاتی ہےاس لئےبالااسکول کا ہر پروگرام ظاہری اور باطنی طہارت ،پاکیزگی اور تقویٰ کےماحول میں منعقد ہوگااورطلباءاور اساتذہ طہارت اور وضو کےاہتمام کےساتھ پروگرام میں شامل ہوں گے۔تعلیم اور تعلم کا یہ عمل عبادت ہے چنانچہ طالب علم اور استاد دوران کلاس اپنےکو عملاََحالتِ عبادت میں تصور کریں گے۔
اس نظام کےتمام شرکاء(stakeholders) یعنی طلبائ،اساتذہ، تربیت کار،والدین اورمنتظمین کو بالا اسکول کےمقاصد ہمیشہ اور ہر وقت ذہن میں رکھنےہوں گے۔ مختصر الفاظ میںاس اسکول کےطلباءکےاندر اسلامی اخلاق کی تعمیر اور کردار سازی ہی(اور یہ صرف معلومات کےتبادلہ کا نام نہیں ہے)
اوقات
بالا اسکول کےاوقات اسکول کےوقت کےخاتمہ کےبعد دو گھنٹےکےبعد شروع ہوں گےاور 3 یا 4گھنٹےصلوةٰ کے وقفوں کےساتھ جاری رہیں گے۔
اساتذہ یافیکلٹی
چونکہ یہ شام کاپروگرام ہےاس لئےوہ مسلم اساتذہ جو کسی پبلک اسکول یا مسلم اسکولوں میں پڑھاتےہوں، سینئر طلبا، ریٹائرڈ لوگ، والدین جو کسی ملازمت اورپیشہ سےمنسلک ہوںاور ہر کاروباری یا کسی بھی شعبہ کےپروفیشنل اس مسلم بالا اسکول کےفیکلٹی ممبر بن سکتےہیں ۔شرط صرف تعلیم و تعلم کےاصول سےواقفیت اور ان کا اعلیٰ اخلاق اورتقویٰ کےمعیار پر پورا اترنا اور ہر قسم کی جاہلی عصبیت سےمبرا ہونا ہے۔اور تقویٰ ظاہری شکل و صورت کا نام نہیںبلکہ خدا خوفی ، حبِ الٰہی اور اس قلبی ماہیت کا نام ہے جہاں لاالہٰ الااﷲمحمدالرسول اﷲ کی صدائےبازگشت جاری رہتی ہے۔
واضح رہےکہ بالا اسکول کیلئےصحیح اساتذہ کا تعین اور انتخاب ہی اس نظام کی کامیابی کی کنجی ہے۔ کسی بھی تعلیمی نظام کےدو اہم اجزاءطلباءاور اساتذہ ہی ہوتےہیں۔طلباءکی تعلیم کی خواہش اور اساتذہ کی تعلم کی صلاحیت ہی نظام کی کامیابی کی بنیادی شرائط ہیں۔
یہاں ایک بار پھر اس بات کا اعادہ ضروری ہے کہ اساتذہ اس نظام تعلیم کےمقاصد کو ہمیشہ سامنےرکھیں اور اس بات کو ہمہ وقت پیشِ نظر رکھیں کہ تعلیم کی عملی عبادت کےذریعہ ایک طر ف ا نھیں نئی نسل کوعقیدہ، ایمان،رسولکےذریعہ حاصل علوم و احکامات، تہذیبی روایات، اپنی تاریخ ، سلف صالحین اور اپنےاسلامی ہیروز کےکارناموں کو نئی نسل تک پہنچانا ہےتو دوسری طرف جدید جاہلیت کےچیلنجز کامقابلہ کرنا ہے۔ اور انہیں داعی الی اﷲ بنانا ہے۔
تمام اساتذہ بالا اسکول میں اعزازی طور پر صرف رضائےالٰہی کےلئےکام کریں اور صرف انتہائی مجبوری کی حالت میں قرآن اور عربی کی تعلیم کےلئےبامعاوضہ استاد مقرر کیا جائے۔تاہم اس بارےہماری تجویز یہ ہےکہ ایک بڑی تعداد کی طلباء والےبالا اسکول میں ایک منتظم یا پرنسپل کی کل وقتی بامعاوضہ تقرری ہو۔
اسکو ل کی عمارت اور کلاس روم
اس کےلئےمسجد یا اسلامی سنٹر ہی بہترین جگہ ہےتاہم اسےان مسلم اسکولوں میں جو شام میں خالی ہوتےہیں، مسلم تنظیمی اور کاروباری بڑے دفاتر جو شام کوخالی ہوں یا رہائشی گھروں میں شروع کیا جا سکتا ہی۔ بالا اسکول کا نظام بلڈنگ اور کلاس روم کا محتاج نہیں ہوگا ۔ اسکول کی بلڈنگ سےآزادی ہی اس نظام کو عملی اور کم خرچ بالا نشیں بناتی ہے۔
امتحانات ، اسناد
پہلےپیریڈ کےپروگرام (ہوم ورک اور ٹیوٹرنگ ) اور دوسرے پیریڈ کےپروگرام (قرآن اور عربی) میں طلباءکی کارکردگی کلاس میں ہی ظاہر ہو جائےگی۔ تیز اور ذہین طلباءجتنا تیز آگےبڑھنا چاہیں بڑھ سکتےہیں اور یہ نظام ان کی تیز رفتاری میں رکاوٹ نہیںبنےگا۔ ہر طالب علم کا سبق اپنا ہوگا یعنی یہ کلاس پر نہیں بلکہ انفرادی سبق کےساتھ چلےگا۔تیسرا پیریڈ جو حکمت اسلامی کا ہےاس میں کلا س کی کارکردگی کےساتھ ساتھ باضابطہ امتحان کا انعقاد ہر سہ ماہی، چھ ماہ یا ایک سال میں کیا جا سکتا ہےلیکن یہ امتحانات ان کی استطاعت جانچنےکا واحدپیمانہ نہیں ہوگا۔ان کی کلا س اور عملی زندگی کی کارکردگی ان کی صلاحیت کو جانچنےکا اصل معیار ہو گا۔مثلاََگریڈ 9سی12 تک کےطلباءسےیہ سوال بھی کیا جائےگا کہ انھوں نےدعوت دین کےلئےاپنےکتنےہمجولی اور ہم کلا س غیر مسلم طلباءسےرابطہ کیا اور ان سےکیا باتیں کیں۔ان کےوالدین سےان کےسلوک کےبارےمیں بھی سوال کیا جائےگا۔سالانہ تقریب اسناد و ایوارڈ میں طلباءاور اساتذہ کو وسعت قلبی کے ساتھ اعلیٰ انعامات اور ایوارڑز دیئےجائیں گے۔اسا تذہ کی کارکردگی کا جائزہ ان کےبارےمیں طلباءکی رائےسےبھی لیا جائےگا۔
فیس یا اعانت
جس طرح نماز کےفرضِ عین ہونےکےباعث مسجدکےنمازیوں سےلازمی فیس نہیں لی جاتی اسی طرح بالا اسکول کی مہیا کردہ تعلیم بھی فرض عین ہے۔ تعلیم کی عبادت میں مصروف طلباءو طالبات سےلازمی فیس نہیں لی جائےگی۔البتہ والدین اور رضائےالٰہی کےحصول کےطلبگارافراد اپنےدل کو بڑا کر کےبالا اسکول میں اعانت کی ایک ماہانہ رقم خودمقرر کرتےہوئےطےشدہ تاریخ کویہ رقم ادا کر دیں۔مقرر شدہ ماہانہ اعانت کا فائدہ یہ ہو گا کہ منتظمین کو بجٹ بنانےاور اس کےمطابق اسکول چلانےکی سہولت رہےگی۔
اساتذہ کی تربیت
بالا اسکولوں کےاساتذہ اور منتظمین کےلئےکاونٹی یا ضلعی سطح پر ہر چھ ماہ یا ایک سال میں ایک ہفتہ کا ٹریننگ کیمپ لگایا جائےگا۔
بالا اسکول کےمنتظمین
اب سوال یہ ہےکہ اس اسکول اور نظام کو کون چلائےگا۔اس کا جواب یہ ہےکہ اسےآپ کی مساجد،آپ کےاسلامی مراکز، تنظیمیں یا آپ خود چلائیں گے۔ہر وہ مسلمان جسےتعلیم و تعلم یا انتظامی معاملات کا تجربہ یا شوق یا خواہش ہو وہ کسی مرکز یا گھر سےاس کا آغاز کر سکتا ہے۔ماضی میں مسلمانوں کی تعلیم ،تعلیمی نظام اور نصاب کی سادگی کےباعث تعلیم بہت عام تھی ۔برصغیر میں برطانوی نوآبادیات سےقبل ہر ۹۰ گھر پر ایک مدرسہ قائم تھا اور ہر عالم کا گھراور گاوُںیونیو رسٹی کا منظر پیش کرتا تھا۔
اختتامی کلمات
ہم نےاس نظام تعلیم اور اس کےنصاب کو انتہائی سادہ،آسان اور ممکن العمل بنا کر اسےسادہ الفاظ میں تحریر کر دیا ہے۔کوئی استاد، اہل علم ، ماہر تعلیم اپنےمشورہ کےذریعہ اسےمزیدبہتر اورقابل عمل بنا سکتا ہے۔ ہم ایسی ہر تجاویز کا یہاں خیرمقدم کریں گے۔
برصغیر کےایک عالم مولاناسید مناظراحسن گیلانینےلکھا ہےکہ ”زندہ قوموں کی زندگی کی پہلی علامت یہی ہوتی ہےکہ قدرت ان کےفہم عمومی کو سلجھا دیتی ہے۔“
”اےہمارے رب اپنےپاس سےہمیں رحمت عطا فرما اور ہمارےلئےہمارےکام میں اچھی صورت مہیا فرما۔“(الکہف :٠١)
”اےمیرےرب مجھےعلم میں بڑھا دیجئی۔“(طٰہٰ ۔٤١١)
اس نظام تعلیم کےجملہ حقوق عنداﷲآخرت میں محفوظ ہیں چنانچہ ہر مسلمان اس پر تصرف کر سکتا ہے۔
سیدجاوید انور سیرہ ویسٹ کےڈائرکٹر اور ڈیلی مسلمز ڈاٹ کام کےایڈیٹر و پبلشر ہیں۔ Seerah West ایک تعلیمی تحریک
Seerah West Inc., PO Box 22121, 45 Overlea Blvd, Toronto, ON M4H 1N9, Canada
T: +1-647-500-9676, E: jawed@dailymuslims.com








