Did you enjoy this article?
|
|
Sections
تحریک طالبان سےجاری حکومت پاکستان کےمذاکرات ایک با ر پھر ناکام ہو چکےہیں ۔ گویا نام نہاد”دہشت گردی“ کو ختم کرنےاور”انتہا پسندوں“ سےڈائیلاگ کرنے، فوج کے بجائے جمہوری راستہ اختیار کرنےاور انہیں بندوق کی جگہ قلم دینے، اور فوجی آپریشن کی جگہ ”ترقیاتی منصوبہ“ دینےکےدعوے اپنی ابتدائی مراحل میں ہی ناکامی کی طرف گامزن ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہےکہ یہ جنگ حکومت پاکستان یا پاکستان کی جنگ نہ تھی اور نہ ہے۔ یہ جنگ خالص امریکہ کی جنگ ہے۔اس جنگ کا پس منظر یہ ہے کہ امریکہ نے پوری دنیا اور خصوصاً مسلم دنیا کےوسائل وذرائع پر قبضہ کرنےکےلئےنو گیارہ کا عالمی ڈرامہ رچانےکےبعد جب افغانستان اور عراق پر فوج کشی کی تو اس کےآگےحریت کےمتوالےچند نوجوان عراق اور افغانستان میں سینہ سپر ہو گئےاور امریکہ کی غلامی قبول کرنےکا انکار کر کےکلمہ توحید پر یکسو ہو گئے۔ان نوجوانوں کی حمایت میں چند اور نوجوان پڑوس کےممالک سےآ ملےاور ان نوجوانوں کی حمایت جاری رکھنےکا اعادہ کیا۔ افغانستان میں طالبان (طلباء) کی حمایت جاری رکھنے کے لئے پاکستان کےشمالی علاقہ جات کےجو طلباءاور نوجوان کھڑےہوئےاسےتحریک طالبان پاکستان کےنام سےجانا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں ان اہل ایمان ویقین ، اورحریت وآزادی کےلئےشہادت کا راستہ اختیار کرنےوالےنادر روزگاروں کو دنیا ” دہشت گرد“ اور” انتہا پسند“ کےنام سےجانتی ہے۔
یہ ”دنیا“ کون ہے؟ یہ دنیا صرف امریکہ اور برطانیہ ہے۔ برطانیہ‘ جس نےدوسری عالمی جنگ کےبعد معاشی بحران سےنمٹنےکےلئےامریکی امداد کےبدلے اپنی نوآبادیات امریکہ کےہاتھوں فروخت کر دی تھیں اور امریکہ ان خریدی گئی کالونیوں میں برطانوی تربیت یافتہ مقامی فوجی جنرلوں کےذریعہ اب تک بالواسطہ حکومت کرتا رہا ہے۔ اس کےبعد یہ ”دنیا“ امریکہ کے پروردہ وہ ممالک ہیں جن کےتجارتی اور مالی مفادات امریکہ سےوابستہ ہیں ۔یورپ کےزیادہ تر ممالک امریکہ کےمعاشی دم چھلےہیں۔اس کےبعد تیسری دنیا اور مسلم ممالک کےوہ تمام حکمراں اورسیاستداں بھی انھیں دہشتگرد کہتےہیں جو یا تو امریکہ سےخوفزدہ ہیں یا ان کےمالی اور ذاتی مفادات امریکہ سےوابستہ ہیں۔ امریکہ عالمی وسائل پر قبضہ کےلئےانٹیلیجنس اور پبلک ڈپلومیسی پر اربوں ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہےجس کا زیادہ تر حصہ اہم افراد کی خریداری پر خرچ کیا جاتا ہے۔ان افراد میں حکمراں اور اپوزیشن کےسیاستدان ، علاقائی حکام، کمانڈر ،جرگہ کےافراد، مذہبی شخصیات اور خاص کر میڈیا کےافراد اور خود میڈیا شامل ہے۔ پاکستان جیسےممالک میں جہاں وزرا ءکی پریس کانفرنسس میںمیڈیا کےسینکڑوں مائیکروفون نظر آتےہیں ، وہاں اس سرمایہ کا بھرپور استعمال صاف نظر آتا ہے۔یہ وہی مال کا فتنہ ہےجس کے بارے میں رسول اﷲ نےفرمایا ہےکہ جو دور آخر کا اور دجال کا سب سےبڑا فتنہ ہےاور یہ کہ بہت کم ہی لوگ اس سےبچ سکیں گے۔ یہ وہ مال کا فتنہ ہےجس نےعالمی دہشت گرد امریکہ کو جمہوریت اور انسانی حقوق کا چیمپین قراردیا ہے، اور اس کا یہ حق قرار د یا ہےکہ وہ ”جمہوریت“ قائم کرنےکےلئےایک آزاد ملک عراق کو فضائی بمباری سےکھنڈر میں بدل سکتا ہی۔ اس پر براہ راست قبضہ کر سکتا ہی۔ دس ملین انسان کا قتل کر سکتا ہےاور افغانستان پر قبضہ کر کےوہاں بغیر کسی گنتی کےانسانوں کو مار سکتا ہی۔ یہ اس کا ” حق“ ہے۔ او ر یہی وہ مال کا فتنہ ہےجو صبح سےشام تک ہزاروں اور لاکھوں بار میڈیا کےذریعہ حریت پسند اور آزادی کی جنگ لڑنےوالوں کو اس تسلسل سےدہشت گرد کہلواتاہےکہ ہر شخص کی زبان پر ان کےلئےیہی اصطلاح جاری ہو جائے۔
امریکہ مسلم ممالک میں کس قسم کی جمہوریت اور کس قسم کی آزادی چاہتا ہے۔ اس کی پہلی مثال عراق ہےجہاں قا بض امریکی اور اتحادی فوجوںنےقبضہ (ظاہری) کےبعد پہلا کام یہ کیا کہ وہاں کےٹی وی چینل سےانتہائی فحش فلمیں چلانا شروع کیں۔ افغانستان میں مغربی ممالک کی فتوحات یہ ہیں کہ کابل کےبازاروں میں فحش فلموں اور میوزک کےکیسٹ کھلےعام فروخت ہو رہے ہیں۔یہ سب اس افغانستان میں ہو رہا ہےجس میں یہاں کےمیڈیا کی ایک خبر کےمطابق ایک افغان نوجوان نےپہلی دفعہ ایک ننگی عورت کی تصویر دیکھی۔ شام، سیاسی طور پرامریکہ کےلئےبرائیوں کےمحور ممالک میں شامل ہے لیکن جب سےوہاں کےنوجوان بشارالاسد نےاپنےباپ کی موت کےبعد صدارت کی گدی سنبھالی ہےاور مغربی کلچر کے لئے اپنےسارےدروازےکھولے ہیں تب سےیہا ں کےمیڈیا میں اس کی بڑی پزیرائی ہو رہی ہےاور اسےمغرب کی اہم فتوحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہےکہ امریکہ اپنی تمام جنگی قہر سامانیوں اور تاریخ انسانی کی سب سے بڑی بربادی کی قوت اور اتنی بڑی طاقت جس کےبارے میں انسانوں کاکوئی گروہ کبھی سوچ بھی سکتا تھا اور اپنےساتھ نیٹو ممالک کو بھی شامل کرنے کے بعد اور پرویز مشرف جیسے حکمرانوں اور ان کی افواج کو ملانے، اور فضائی اوربری قبضہ کےباوجود بھی مٹھی بھر چند مجاہدین سےشکست کھا گیاہے۔ پاکستان میں اس شکست کا پہلا اظہار اس وقت ہوا جب امریکہ نےیہ واویلہ شروع کیا کہ یہ” دہشت گرد“ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قابض ہو جائیں گی۔ پاکستان کےبعض سیاسی،عوامی، اور فوجی حلقےاسےبلاوجہ کا واویلہ اور انہونی بات قراردے رہےتھے۔حالانکہ امریکہ نےیہ اندازہ لگا لیا تھا کہ پاکستانی فوج جو جنرل مشرف کی قیادت میں پینٹاگان کی اضافی اور انتہائی سستی نفری کی شکل میں شمالی علاقہ جات میں تحریک طالبان سے نبرد آزما تھے اسےشکست کا سامنا تھا اورطالبان کی تحریک کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ وہ آنےوالےدنوں میں اسلام آباد پر قابض ہو سکتےتھے۔امریکہ کےسامنےایران کا تجربہ تھا جہاں امریکہ کی انتہائی وفادار فوج کےتقریباً تمام جنرل پھانسی پر لٹکنےکےلئےتنہا کھڑےتھےاور پوری فوج عوام کےساتھ کھڑی ہو کر نئےانقلاب کی معاون بن گئی تھی۔اس سےپہلےکہ ایران جیسی صورت حال ہوامریکہ کےپالیسی سازوں نےپینترا بدلا اور فوج اور فوجی قوت کو سہارا دینےکےلئےاماں جمہوریت اوربچہ جمہورروں کی نئی بیساکھی تیار کی۔ تاریخ کی بدترین عسکری قوت نےمٹھی بھر مجاہدین سےشکست کھانےکےبعد جنگ کےنئےمیدان کا انتخاب کیا۔ اس نئےمیدان جنگ کی کمانڈرانچیف کیلئے بےنظیر بھٹو کا انتخاب کیا گیا۔ لیکن ان کے”چاہنےوالوں“ نےان کےلئےوزارت عظمی کی ادنٰی کرسی کو ناپسند کرتے ہوئے انھیں شہادت کےعظیم رتبہ پر فائز کر دیا۔ ان کی” شہادت “کےبعد اب اس میدان کے پانچ شہسوار ہیں۔ ان میں سےایک شہسوار نےتازہ قومی اسمبلی کےپہلےدن کےاجلاس میں تقریر کرتےہوئےکہا ہےکہ:
”خدارا ہمارےہاتھوں میں بندوق نہیں قلم دے دو“۔
یہ ”قلم دے دو“ کی وہی اپیل ہےجسےامریکی صدر بش نےنئےمحاذ جنگ میں نئےنصاب تعلیم اور کتابوں کی اشاعت اور جنگی اورقابض علاقوں میں اسکی بڑے پیمانےپر ترسیل کی شکل میں انجام دیا ہے۔ اس پارٹی کی قیادت پوری دنیا کو زور وشور کےساتھ بتا رہی ہےکہ صوبہ سرحد کےعوام نےمذہبی جماعتوں کو اور بقول ان کےانتہا پسندوں کو رد کر دیا ہےحالانکہ اصل صورت حال یہ ہےکہ صوبہ سرحد میں صر ف 15 فی صد پولنگ ہوئی جس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ لوگوں نےانتخابی سیاست کو رد کرتےہوئےجہادی قوت اور طریقہ کار کی حمائت کی ہےاور اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہےکہ انتخابی میدان کی اصل اسلامی تنظیم، جماعت اسلامی کی انتخاب کےبائیکاٹ کی اپیل کامیاب ہوئی ہے۔
برصغیر میں انگریزوں کی بڑی فتوحات کا آغاز 1757ءسےشروع ہو چکا تھا۔لیکن مسلمانوں کے اپنے نظام تعلیم کےقائم رہنےاور حریت اور جہاد کی تحریک کےباعث یہ فتوحات ایک حد پر آ کر رک چکی تھیں۔ ان فتوحات کو آگے بڑھانےکےلئےبرطانیہ کےتعلیمی ماہرین آئےجنھوں نےمسلمانوں کےتعلیمی قتل عام کا فیصلہ کیا ۔سب سےپہلےانھوں نےمدارس کا سروے کروا کر ان سےوابستہ اوقاف اور معافیوں کو قومی (انگریزی) تحویل میں لےلیااور اس کی معاشی رگ کا ٹ دی۔ہزاروں مدارس بند ہو گئے۔ ایک سروےکےمطابق ہر90گھر پر ایک مدرسہ قائم تھا اور 85 فی صد لوگ تعلیم یافتہ تھے۔ ان تعلیمی ماہرین نےاعتراف کیا کہ شائد ہی دنیا کی کوئی ایسی قوم گزری ہو جس میں تعلیم اور تعلم کا رواج مقداری اور معیاری دونوں لحاظ سےاتنا عام ہو جیسا کہ ہندوستانی مسلمانوں میں ہی۔ (واضح رہےکہ جس وقت انگریزہندوستان سےجا رہےتھےاس وقت ان کےاپنےسروےکےمطابق ہندوستان یعنی اس وقت کےبرصغیرکا تعلیمی تناسب 14 فی صد تھا)۔ تاہم مسلمانوں نےجہاد کا سلسلہ جاری رکھا۔ اور 1857انگریزوں کے لئے بہت برا سال ثابت ہوا جب مسلمانوں نےآزادی کےلئےایک بھرپور کوسش کی۔اس کےبعد انگریزحکمرانوں نے7000(جی ہاں!سات ہزار) علماءکا قتل کیا اور ایک بڑی تعداد ملک بدر ہو گئی۔ اس علمی قتلِ عام کے بعد مسلمانوں میں صرف ایک تعلیمی تحریک کی گنجائش تھی اور وہ تھی سرسید احمد کی علی گڑھ تحریک۔اس تعلیم کا اول و آخر مقصد دنیا کو بہتر بنانا تھا۔ اور اس بہتری کا بہترین طریقہ دنیا کےوسائل پر قابض انگریزی سامراج کی کلرکی تھی۔ عہدِ رفتہ کی عظمت کو سینےمیں بسائےچند گھرانوں کےبچوں نےاس کلرکانہ تعلیم کےباوجود خود کو کلرکانہ تہذیب کا شکار ہونےسےبچائےرکھا۔ لیکن یہ چند ہی تھے۔ ورنہ انگریزوں نےمسلمانوں کو نئی انگریزی تعلیم اور نئےنظام کی طرف لگا کر یعنی:
کرکلرکی، کھا ڈبل روٹی اورخوشی سےپھول جا کےشغل میں لگا کر آخری جنگ جیت لی اور مسلمانوں نےانگریز کی غلامی کو دل و جان سےقبول کرتےہوئےاپنی غلامی پر مہر لگادی۔
برصغیر کےوہ علاقےاور لوگ جنھوں نےنئےتعلیمی نظام کو رد کرتے ہوئےکچھ حد تک اپنی آزادی برقرار رکھی انھیں آج ”غیر ترقی یافتہ “ اور جاہل کہا جاتا ہے۔ انہی ”جاہل“ اور ”غیر ترقی یافتہ“ علاقوں میں شمالی پاکستان کےوہ آزاد علاقے ہیں جہاں انگریز داخل نہ ہو سکےاور اسی وجہ سےوہ ”جاہل “ بھی ہیں اور ”غیرترقی یافتہ“ بھی۔اور انہی ”جاہل “ اور ”غیرترقی یافتہ“ لوگوں نےاس بار بھی برطانوی سامراج کےجانشین امریکہ کی غلامی قبول کرنےسےانکار کر دیا ہی۔ امریکہ، ناٹو اور ان کی فرنٹ لائن فوج یعنی پاکستانی فوج کی شکست کے بعد پرانے شکاری ایک بار پھروہی پرانا جال لےکر آئےہیں ۔یعنی تعلیم کا جال اور ان کےنئےمقامی قائد جس قلم اور کاغذ کی بات کر رہے ہیں، یہ قلم غلامی کا قلم اور کاغذ غلامی کی دستاویز ہے۔
امید ہےکہ اکیسویں صدی میں جبکہ سامراج ننگا ہو کر سامنےکھڑا ہو گیا ہےکم از کم اہل ایمان کو دھوکہ نہیں دیا جا سکےگا۔مسلمانوں کا تعلیمی اور سیاسی کلچر ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسر ےہا تھ میں تلوار(بندوق) پر مشتمل ہی۔کتاب کےمطابق انصاف قائم ہوتا ہےاور تلوار سےظلم کا راستہ روکا جاتا ہے۔”ہم نےاپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کےساتھ بھیجا، اور ان کےساتھ کتاب اورمیزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہےاور لوگوں کےلئےمنافع ہیں۔یہ اس لئےکیا گیا ہےکہ اﷲکو معلوم ہو جائےکہ کون اس کو دیکھےبغیر اس کی اور اس کےرسولوں کی مدد کرتا ہی۔یقیناًاﷲبڑی قدرت والا اور زبردست ہی۔“(الحدید۔25)
ُ فوجی میدان میں شکست کھانےکے بعد سامراج اب پاکستان میں ”جمہوریت“ کےذریعہ جو اہداف حاصل کرنا چاہتا ہےوہ یہ ہیں کہ:
(1) افغانستان پر اپنا تسلط قائم رکھتےہوئےافغان مجاہدین کےلئے پاکستان سےکسی قسم کی مدد ختم کرنےکے لئے پاکستانی طالبان کو مذاکرات میں الجھا دیا جائے۔
(2) ترقیاتی منصوبےشروع کئےجائیں اور اس کےنام پر ان علاقوں کےعمائدین کےگھروں کو ڈالروں سےبھر دیا جائے۔
(3) مختلف ذرائع استعمال کرتےہوئےان علاقوں میں سادہ زندگی گزارنےوالوں کےلئےنئی ضروریات کو ایجاد کیا جائےاور انھیں ان کا محتاج بنا کر نامرد بنا یا دیا جائے۔
(4) ثقافتی یلغار: جمہوریت ، آزادی اظہار اور لبرل ازم کےنام پر مختلف ذرائع ابلاغ، آڈیو ،ویڈیو ، فلم ،اور رسائل کےذریعہ مغرب کےننگے اور بےحیا کلچراور ہم جنس پرستی جیسےطرز زندگی کو فروغ دے کر جہادی کلچر کو ختم کیا جائے۔
(5) انگریزی تعلیم کےنام پر مسلم ممالک کےلئےتیار کئےگئےامریکی نصاب اور کتابوں کی فراہمی تاکہ امریکی اقدار پر ایمان مضبوط ہو۔
بقول اکبر الہٰ بادی :
میں بھی گریجویٹ ہوں تو بھی گریجویٹ
علمی مباحثے ہوں ذرا پاس آ کے لیٹ
جب سامراجی طاقت کو دوبدو جنگ میں شکست نظر آنےلگتی ہے تو پھر اس کا آزمودہ ہتھیار علمی اور سیاسی مباحثےہیں۔یہ نرم جنگ‘ ہتھیاروں کی گرم جنگ سےزیادہ خطرناک ہےاور اس جنگ کیلئے امریکا کےبہترین دماغوں نےبڑےبڑےتھنک ٹینکس میں بیٹھ کربرسوں تیاری کی ہے۔ اس جنگ کا سب سےبڑا ہتھیار بےپناہ سرمایہ ہے۔ وہی مال کافتنہ !!!اسی پر بس نہیں۔ اب پاکستان میں زر کےساتھ ساتھ زرداری جمہوریت بھی ہے۔ بڑے ہی مظلوم اور معصوم ہیں وہ پاکستانی جو نئی حکومت سےبہتری کی امیدیں وابستہ کئےبیٹھےہیں۔
سید جاوید انور سے بذریعہ ای میل jawed@dailymuslims.com
پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
۔
ویب سائٹ کا پتہ ہے
www.dailymuslims.com








